پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں پیر کے روز کاروبار کا آغاز شدید دباؤ کے ساتھ ہوا، جس کی بنیادی وجہ عالمی سطح پر جاری جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور جنگی صورتحال ہے۔ صبح گیارہ بج کر چونتیس منٹ پر انڈیکس 2 ہزار 371 پوائنٹس یعنی 1 اعشاریہ 58 فیصد کی کمی کے بعد 1 لاکھ 48 ہزار 27 پوائنٹس پر آ گیا۔
بازار میں اتار چڑھاؤ کے دوران انڈیکس کی بلند ترین سطح 1 لاکھ 51 ہزار 453 اور نچلی ترین سطح 1 لاکھ 47 ہزار 882 پوائنٹس رہی۔ اس دوران 7 کروڑ 80 لاکھ سے زائد شیئرز کا کاروبار ہوا جن کی مالیت 7 ارب 15 کروڑ روپے سے تجاوز کر گئی۔ سرمایہ کاروں کی جانب سے محتاط رویہ اختیار کیے جانے کے باعث فروخت کا دباؤ برقرار رہا۔
عالمی مارکیٹوں میں مندی کی لہر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کو آبنائے ہرمز بند نہ کرنے کی دھمکی کے بعد پیدا ہوئی، جس نے عالمی سطح پر سرمایہ کاروں میں خوف و ہراس پھیلا دیا۔ آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل متاثر ہونے کے خدشات کے پیش نظر خام تیل کی قیمتوں میں اضافے نے اسٹاک مارکیٹ پر منفی اثرات مرتب کیے۔
اے کے ڈی سیکیورٹیز کے ڈائریکٹر ریسرچ محمد اویس اشرف کا کہنا ہے کہ امریکہ، اسرائیل اور ایران کے مابین کشیدگی نے سرمایہ کاروں کو محتاط کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں تیل کی قیمتیں ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی ہیں اور خلیجی ممالک میں تجارتی سرگرمیاں معطل ہوئی ہیں۔
ماہرین کے مطابق یونائیٹڈ بینک لمیٹڈ کے شیئرز میں نمایاں کمی دیکھی گئی جس کی وجہ بینک کے اثاثوں کی ری ویلیو ایشن پر سرپلس کا خطرے میں ہونا ہے، جو سیکنڈری مارکیٹ میں منافع کی شرح بڑھنے سے متاثر ہوا ہے۔ دوپہر 12 بج کر 4 منٹ تک کے اعداد و شمار کے مطابق کے ایس ای 100 انڈیکس 2 ہزار 448 پوائنٹس یعنی 1 اعشاریہ 63 فیصد کی کمی سے 1 لاکھ 47 ہزار 950 پوائنٹس پر ٹریڈ کر رہا تھا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیجنگ کے دورے اور چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ…
اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین سے ملاقات کے لیے چھ رکنی…
اقوام متحدہ کے سابق ہتھیاروں کے معائنہ کار اور امریکی میرین کور کے انٹیلی جنس…
وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے گلگت بلتستان کے دورے کے دوران خطے میں چار…
کراچی میں پانی کی چوری کی روک تھام کے لیے قائم خصوصی تھانہ خود سنگین…
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کے دورے پر پہنچ گئے ہیں، ان کے ہمراہ امریکہ…