اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے مانیٹری پالیسی کے اعلان سے قبل ماہرین معاشیات نے ملکی شرح سود میں ڈیڑھ سے تین فیصد تک اضافے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ مہنگائی کی بلند شرح کے پیش نظر مرکزی بینک کی جانب سے سخت مانیٹری پالیسی اپنانے کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔
اسٹیٹ بینک کی جانب سے مانیٹری پالیسی کا اعلان ستائیس اپریل کو متوقع ہے جس کے بعد شرح سود بارہ سے چودہ فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔ معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث مہنگائی کا دباؤ بڑھ رہا ہے جس کے نتیجے میں قیمتوں اور شرح مبادلہ کو مستحکم رکھنے کے لیے مرکزی بینک کی جانب سے شرح سود میں اضافہ ناگزیر دکھائی دیتا ہے۔
ماہرین کے مطابق بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی جانب سے قرض کی تیسری قسط کی متوقع وصولی سے بیرونی فنانسنگ کا دباؤ کم ہونے اور زرمبادلہ کے ذخائر کو سہارا ملنے کی امید ہے۔ تاہم اس کے باوجود معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ مہنگائی کو کنٹرول کرنے اور ملکی معیشت کے استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے شرح سود میں اضافہ ایک مضبوط امکان کے طور پر موجود ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیجنگ کے دورے اور چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ…
اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین سے ملاقات کے لیے چھ رکنی…
اقوام متحدہ کے سابق ہتھیاروں کے معائنہ کار اور امریکی میرین کور کے انٹیلی جنس…
وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے گلگت بلتستان کے دورے کے دوران خطے میں چار…
کراچی میں پانی کی چوری کی روک تھام کے لیے قائم خصوصی تھانہ خود سنگین…
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کے دورے پر پہنچ گئے ہیں، ان کے ہمراہ امریکہ…