صوبہ خیبر پختونخوا کے محکمہ ہائر ایجوکیشن کی جانب سے سرکاری کالجز اور یونیورسٹیوں میں مرد اساتذہ کی طالبات کے ساتھ نجی ملاقاتوں پر پابندی کے فیصلے نے تعلیمی حلقوں میں شدید غم و غصے کو جنم دیا ہے۔ اس متنازعہ اقدام کے تحت اب کسی بھی طالبہ کو اپنے مرد استاد سے ملاقات کے لیے محکمہ ہائر ایجوکیشن سے پیشگی اجازت نامہ یا این او سی حاصل کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ اسلامیہ کالج پشاور کے شعبہ سیاسیات نے اس ہدایت نامے پر سب سے پہلے عملدرآمد شروع کیا جس کے بعد سے تعلیمی اداروں میں شدید تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
پشاور یونیورسٹی کی پی ایچ ڈی طالبہ عروج خان نے اس حکومتی فیصلے کو فرسودہ سوچ کا عکاس قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ تعلیمی اداروں میں اساتذہ والدین کا درجہ رکھتے ہیں اور ایسی پابندیاں علمی ماحول میں اعتماد اور پیشہ ورانہ مہارت کے فقدان کو ظاہر کرتی ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر تحقیقی طالبات اپنے سپروائزر کے ساتھ بیٹھ کر مقالے پر بات نہیں کر سکتیں تو وہ اپنی تحقیق کیسے مکمل کریں گی؟ عروج خان کے مطابق یہ فیصلہ زمینی حقائق سے لاعلمی کا ثبوت ہے۔
زرعی یونیورسٹی پشاور کے طالب علم خیزر خان نے اس اقدام کو غیر عملی قرار دیتے ہوئے کہا کہ کو-ایجوکیشن کے اداروں میں ایسی قدغنیں لگانے کے بجائے ہراسانی روکنے کے لیے موثر نظام وضع کیا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر والدین کو تحفظات ہیں تو وہ اپنی بیٹیوں کو خواتین کی مخصوص یونیورسٹیوں میں داخل کروا سکتے ہیں، تاہم تمام طلبہ پر ایسی پابندیاں عائد کرنا کسی صورت مناسب نہیں۔
فیکلٹی ممبران نے بھی اس نوٹیفکیشن کو مسترد کر دیا ہے۔ پشاور یونیورسٹی کے اسسٹنٹ پروفیسر اور ٹیچرز ایسوسی ایشن کے سابق صدر ڈاکٹر محمد عزیر نے اسے ناقص اور مبہم قرار دیا۔ انہوں نے استدلال کیا کہ ہراسانی کے واقعات روکنے کے لیے سخت قوانین اور شفاف شکایتی مراکز کی ضرورت ہے، نہ کہ ایسی پابندیوں کی جو تعلیمی عمل کو ہی مفلوج کر دیں۔ ایڈووکیٹ مہوش محب کاکڑ نے بھی اسے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس معاملے کو عدالت میں چیلنج کیا جانا چاہیے۔
اسلامیہ کالج پشاور کے شعبہ سیاسیات کے چیئرمین ڈاکٹر امیر اللہ خان نے تصدیق کی کہ ان کے شعبے نے یہ ہدایت محکمہ ہائر ایجوکیشن کے دباؤ پر نافذ کی تاہم وہ ذاتی طور پر اس کے حق میں نہیں ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ یونیورسٹیوں کے انتظامی معاملات میں سیاسی مداخلت بڑھ گئی ہے اور صوبائی حکومت کی جانب سے وزیراعلیٰ کو چانسلر بنانے کے بعد سے تعلیمی ادارے مزید دباؤ کا شکار ہیں۔ انہوں نے وائس چانسلرز کی خاموشی پر بھی تنقید کی ہے۔ اس معاملے پر محکمہ ہائر ایجوکیشن اور اسلامیہ کالج کی انتظامیہ کی جانب سے موقف جاننے کے لیے متعدد بار رابطہ کیا گیا لیکن کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
ایچ بی ایل پاکستان سپر لیگ سیزن 11 کے چودھویں میچ میں ملتان سلطانز نے…
سندھ حکومت نے صوبے بھر میں اسکول وین کے کرایوں میں اضافے پر پابندی عائد…
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ…
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے منگل کی ڈیڈ…
سابق امریکی سی آئی اے ڈائریکٹر ڈیوڈ پیٹریاس نے انکشاف کیا ہے کہ سنہ 2022…
نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے پاکستان بھر میں اگلے بارہ سے چوبیس گھنٹوں کے دوران…