اسلام آباد میں وزیراعظم شہباز شریف سے ایک چینی کمپنی کے وفد نے ملاقات کی جس میں پاکستان اور چین کے مابین تجارتی و سرمایہ کاری تعلقات کو مزید مستحکم کرنے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزیراعظم نے اس موقع پر کہا کہ وفاقی حکومت کاروباری طبقے کے مابین روابط یعنی بی ٹو بی تعلقات کے فروغ کو اولین ترجیح دے رہی ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان سرمایہ کاروں کو شفاف اور پائیدار ماحول فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
وزیراعظم نے اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل کے کردار کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ یہ کونسل سرمایہ کاروں کو سہولت کاری فراہم کر رہی ہے تاکہ ملک میں سرمایہ کاری کے عمل کو بلا تعطل یقینی بنایا جا سکے۔
شہباز شریف نے مشترکہ منصوبوں کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ معاشی ترقی کے لیے ناگزیر ہیں۔ ان منصوبوں سے نہ صرف روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے بلکہ ٹیکنالوجی کی منتقلی اور برآمدات میں بھی نمایاں اضافہ ممکن ہوگا۔
ملاقات کے دوران بریفنگ میں بتایا گیا کہ مذکورہ چینی کمپنی برآمدات پر خصوصی توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے اور مالی سال 2024-25 کے دوران کمپنی نے 54 ملین ڈالر کی برآمدی آمدنی ریکارڈ کی ہے۔
اجلاس میں قیصر احمد شیخ، بلال اظہر کیانی اور ہارون اختر سمیت دیگر اعلیٰ سرکاری حکام نے بھی شرکت کی۔ یہ ملاقات پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ اور معاشی تعاون کو گہرا کرنے کی حکومتی کوششوں کا حصہ ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیجنگ کے دورے اور چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ…
اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین سے ملاقات کے لیے چھ رکنی…
اقوام متحدہ کے سابق ہتھیاروں کے معائنہ کار اور امریکی میرین کور کے انٹیلی جنس…
وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے گلگت بلتستان کے دورے کے دوران خطے میں چار…
کراچی میں پانی کی چوری کی روک تھام کے لیے قائم خصوصی تھانہ خود سنگین…
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کے دورے پر پہنچ گئے ہیں، ان کے ہمراہ امریکہ…