لاہور ہائی کورٹ نے اراضی کی منتقلی کے خلاف دائر کردہ درخواست کو بلا جواز تاخیر اور میرٹ پر پورا نہ اترنے کی بنیاد پر مسترد کر دیا ہے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا ہے کہ قانونی حقوق کے تحفظ کے لیے بروقت رجوع کرنا ضروری ہے اور غفلت برتنے والوں کو غیر معمولی ریلیف فراہم نہیں کیا جا سکتا۔
جسٹس ملک وقار حیدر اعوان نے پٹھانی مائی نامی شہری کی جانب سے دائر درخواست پر سات صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ عدالتی فیصلوں کے نفاذ میں تاخیر قانون کے بنیادی مقصد کو ختم کر دیتی ہے، لہذا بلا جواز تاخیر کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں ہے۔
کیس کی تفصیلات کے مطابق درخواست گزار نے اراضی کی منتقلی کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اسے منسوخ کرنے کی استدعا کی تھی۔ عدالت نے اس موقع پر سوال اٹھایا کہ اٹھارہ ماہ کی طویل تاخیر کے بعد عدالت سے رجوع کرنے کی کیا وجوہات تھیں۔
درخواست گزار کی جانب سے تاخیر کی کوئی معقول وجہ بیان نہیں کی گئی اور نہ ہی وہ اپنی طویل خاموشی کا کوئی ٹھوس جواز پیش کر سکیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ درخواست دائر کرنے میں حد سے زیادہ تاخیر ہوئی اور یہ کیس قانونی معیارات پر پورا نہیں اترتا۔ ان وجوہات کی بنا پر فاضل عدالت نے درخواست کو ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیجنگ کے دورے اور چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ…
اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین سے ملاقات کے لیے چھ رکنی…
اقوام متحدہ کے سابق ہتھیاروں کے معائنہ کار اور امریکی میرین کور کے انٹیلی جنس…
وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے گلگت بلتستان کے دورے کے دوران خطے میں چار…
کراچی میں پانی کی چوری کی روک تھام کے لیے قائم خصوصی تھانہ خود سنگین…
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کے دورے پر پہنچ گئے ہیں، ان کے ہمراہ امریکہ…