Categories: Newsپاکستان

سندھ کے سب سے بڑے بچوں کے ہسپتال میں عملے کی شدید قلت، 800 آسامیاں خالی

سندھ کے سب سے بڑے بچوں کے ہسپتال نیشنل انسٹیٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ میں عملے کی شدید قلت کے باعث طبی سہولیات کا نظام درہم برہم ہو کر رہ گیا ہے۔ ہسپتال میں آٹھ سو اسامیاں خالی پڑی ہیں جس کی وجہ سے مریضوں کو بروقت طبی امداد کی فراہمی میں سنگین مشکلات کا سامنا ہے۔ ہسپتال کی گنجائش پانچ سو بستروں کی ہے تاہم یہاں دو ہزار سے زائد بچے زیر علاج رہتے ہیں جس کے باعث ایک بستر پر تین سے چار بچوں کو لٹایا جا رہا ہے۔

ہسپتال میں سرجری کے لیے مریضوں کو تین سے چھ ماہ طویل انتظار کرنا پڑتا ہے جبکہ ایم آر آئی اور سی ٹی اسکین مشینیں اکثر خراب رہتی ہیں۔ ہسپتال میں مریض بچوں کو اوپر کی منزلوں پر منتقل کرنے والی لفٹ بھی اکثر بند رہتی ہے۔ آؤٹ پیشنٹ ڈیپارٹمنٹ میں روزانہ پانچ سے سات سو جبکہ ایمرجنسی میں تین سو کے قریب بچے لائے جاتے ہیں۔

متاثرہ والدین کا کہنا ہے کہ مہنگے نجی ہسپتالوں کے اخراجات ان کی پہنچ سے باہر ہیں، جبکہ سرکاری ہسپتال میں طویل انتظار اور ادویات کی عدم دستیابی ان کے دکھوں میں اضافہ کر رہی ہے۔ ٹھٹھہ سے آئے ایک شہری نے بتایا کہ ان کے چار سالہ بیٹے کی سرجری کے لیے ایم آر آئی ضروری تھا لیکن مشین ہفتوں خراب رہی، بعد ازاں سرجری کی تاریخ بھی تین ماہ بعد دی گئی۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ہسپتال میں منظور شدہ بارہ سو اسامیوں میں سے صرف چار سو پر بھرتیاں موجود ہیں اور دو ہزار گیارہ سے دو ہزار چھبیس تک مستقل بنیادوں پر کوئی بھرتی نہیں کی گئی۔ ڈاکٹروں کی نواسی اسامیوں میں سے چونسٹھ، نرسنگ کی دو سو میں سے اسی اور پیرا میڈیکل کی چار سو دس میں سے ڈھائی سو اسامیاں خالی پڑی ہیں۔ قانونی پیچیدگیوں کے باعث بھرتیوں کا عمل برسوں سے تعطل کا شکار ہے۔

ینگ نرسنگ ایسوسی ایشن کے صدر اعجاز کالیری کے مطابق نرسنگ اسٹاف کی شدید کمی کے باعث دن کے اوقات میں چار نرسیں ساٹھ بچوں کی دیکھ بھال کرنے پر مجبور ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہسپتال کو فوری طور پر ساڑھے چار سو نرسوں کی ضرورت ہے۔ ایک ڈاکٹر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ دو ہزار چوبیس میں منظور شدہ درجنوں کنسلٹنٹ اور ماہرین کی اسامیاں فنڈز کی دستیابی کے باوجود خالی پڑی ہیں۔

ایگزیکٹو ڈائریکٹر این آئی سی ایچ پروفیسر ڈاکٹر ناصر سلیم سڈل نے صورتحال کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ آٹھ سو اسامیاں خالی ہیں اور انتظامیہ کو کام چلانے کے لیے نجی تنظیموں کے ایک سو پچاس کارکنوں کی مدد لینی پڑ رہی ہے۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ قانونی پیچیدگیوں کے باعث کنٹریکٹ پر بھرتیاں بھی تاحال ممکن نہیں ہو سکیں۔

ویب ڈیسک

Recent Posts

تائیوان کا تنازعہ: ٹرمپ اور شی جن پنگ کی ملاقات میں سب سے اہم ایشو

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیجنگ کے دورے اور چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ…

4 ہفتے ago

پی ٹی آئی کی جانب سے عمران خان سے ملاقات کے لیے پارٹی رہنماؤں کی فہرست اڈیالہ جیل حکام کے حوالے

اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین سے ملاقات کے لیے چھ رکنی…

4 ہفتے ago

اسکاٹ ریٹر کی جانب سے پاکستان کو نوبل انعام دینے کی حمایت

اقوام متحدہ کے سابق ہتھیاروں کے معائنہ کار اور امریکی میرین کور کے انٹیلی جنس…

4 ہفتے ago

گلگت بلتستان میں دانش اسکولوں کا قیام: خطے میں معیاری تعلیم کے فروغ کی جانب اہم پیش رفت

وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے گلگت بلتستان کے دورے کے دوران خطے میں چار…

4 ہفتے ago

کراچی: پانی چوری روکنے والا پولیس اسٹیشن خود کرپشن کے الزامات کی زد میں

کراچی میں پانی کی چوری کی روک تھام کے لیے قائم خصوصی تھانہ خود سنگین…

4 ہفتے ago

امریکی صدر ٹرمپ کا دورہ چین: ایک ٹریلین ڈالر مالیت کے حامل بڑے کاروباری رہنما ہمراہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کے دورے پر پہنچ گئے ہیں، ان کے ہمراہ امریکہ…

4 ہفتے ago