قیدیوں کی اصلاحات کے لیے قومی کانفرنس جون میں منعقد ہوگی

پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے زیر حراست رہنماؤں کے حقوق کی پامالی کے الزامات کے دوران نیشنل جوڈیشل پالیسی میکنگ کمیٹی نے جیل اصلاحات کے ایکشن پلان پر جون میں قومی کانفرنس بلانے کا اعلان کیا ہے۔ اس کانفرنس کا مقصد اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت اور پالیسی سازی کے عمل کو مزید مربوط بنانا ہے۔

چیف جسٹس آف پاکستان یحییٰ آفریدی کی زیر صدارت این جے پی ایم سی کے 59 ویں اجلاس میں وفاقی شرعی عدالت، تمام ہائی کورٹس کے چیف جسٹس، اٹارنی جنرل اور سیکریٹری لاء اینڈ جسٹس کمیشن نے شرکت کی۔ اجلاس میں جیل اصلاحات کے ایکشن پلان پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا جس کا مقصد پاکستان کے جیل خانہ جات کے نظام کو اقوام متحدہ کے نیلسن منڈیلا رولز کے مطابق استوار کرنا ہے۔

کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ جیلوں میں قیدیوں کے حقوق کا تحفظ، سہولیات کی بہتری اور ادارہ جاتی احتساب کو یقینی بنانے کے لیے ہم آہنگ حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ صوبائی جسٹس کمیٹیوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ جیل اصلاحات کے لیے صوبائی حکومتوں کی شمولیت کو یقینی بنائیں۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سابق وزیراعظم عمران خان کے وکلاء نے ان پر اور ان کی اہلیہ پر جیل میں انتہائی سخت اور تنہائی میں قید رکھنے کے الزامات عائد کیے ہیں۔ بیرسٹر تیمور ملک کا کہنا ہے کہ جیل اصلاحات کا منصوبہ خوش آئند ہے تاہم جب تک ضمانت، سزا معطلی اور اپیلوں کی بروقت سماعت کا مسئلہ حل نہیں ہوتا، یہ اصلاحات ناکافی ہوں گی۔ انہوں نے جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدیوں کی موجودگی کو بنیادی مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ زیر سماعت قیدیوں اور ضمانت کے حقدار افراد کی رہائی سے نظام پر بوجھ کم کیا جا سکتا ہے۔

بیرسٹر تیمور ملک نے اعجاز چوہدری کی صحت اور شاہ محمود قریشی کے مقدمات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ قانونی ریلیف کے باوجود عدالتی عمل میں تاخیر قیدیوں کے لیے مشکلات کا باعث بن رہی ہے۔

اجلاس میں غیر ضروری اور جھوٹی قانونی چارہ جوئی کے تدارک کے لیے کاسٹ آف لیٹیگیشن ایکٹ 2017 کے تناظر میں قانون سازی پر بھی مشاورت کی گئی۔ چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ اس سلسلے میں مسودہ تیار کیا جا رہا ہے جس پر وزارت قانون، صوبائی محکمہ جات اور بار کونسلز سے رائے لی جائے گی۔

اٹارنی جنرل نے یقین دہانی کرائی کہ وکلاء کی جانب سے ہڑتالوں کے کلچر کو ختم کرنے کے لیے پاکستان بار کونسل کے ساتھ مشاورت کی جائے گی۔ مزید برآں، این جے پی ایم سی نے ضلعی عدالتوں میں تعطیلات کے دوران بچوں کی والدین سے ملاقات کے لیے خصوصی سہولیات کے قیام کی بھی منظوری دی ہے تاکہ عدالتی نظام میں بچوں کے حقوق اور خاندانی روابط کو بہتر بنایا جا سکے۔

ویب ڈیسک

Recent Posts

بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کا اسلام آباد کی سفارتی کامیابیوں پر اظہارِ فخر

اسلام آباد میں مقیم تارکین وطن پاکستانیوں نے ملکی سفارتی کامیابیوں اور خطے میں کشیدگی…

30 منٹس ago

جنگِ ستمبر کے ہیرو ونگ کمانڈر سیسل چوہدری کی 14 ویں برسی آج منائی جا رہی ہے

پاکستان فضائیہ کے نڈر جنگی پائلٹ اور 1965 کی جنگ کے ہیرو گروپ کیپٹن ریٹائرڈ…

2 گھنٹے ago

الہ آباد: تیز رفتار موٹر سائیکل اور ٹریکٹر ٹرالی میں تصادم، 2 افراد جاں بحق، 2 زخمی

ضلع رحیم یار خان کی تحصیل الہ آباد میں قصور روڈ پر پیش آنے والے…

3 گھنٹے ago

اسلام آباد مذاکرات طویل سفارتی عمل کا پہلا مرحلہ ہیں: شیری رحمان

اسلام آباد میں منعقدہ حالیہ مذاکرات کے حوالے سے پاکستان پیپلز پارٹی کی نائب صدر…

3 گھنٹے ago

ترکیہ کا نیتن یاہو کو ‘عہدِ حاضر کا ہٹلر’ قرار، سفارتی کشیدگی میں اضافہ

ترکیہ کی وزارت خارجہ نے اسرائیلی وزیراعظم کے سوشل میڈیا بیان پر سخت ردعمل دیتے…

4 گھنٹے ago

بہاماس میں لاپتہ ہونے والی اہلیہ کے مقام سے متعلق برائن ہکر کے نقشے منظر عام پر

بہاماس میں اپنی اہلیہ لینیٹ ہکر کی پراسرار گمشدگی کے معاملے میں برائن ہکر کی…

7 گھنٹے ago