-Advertisement-

ملک میں بجلی کا شارٹ فال 3500 میگاواٹ سے تجاوز، لوڈشیڈنگ کے خلاف ہائی کورٹ میں درخواست دائر

تازہ ترین

جرمنی کا سوڈان کے لیے مزید 2 کروڑ یورو کی امداد کا اعلان

جرمنی نے سوڈان میں جاری خانہ جنگی کے متاثرین کی مدد کے لیے مزید 20 ملین یورو کی ہنگامی...
-Advertisement-

پاکستان بھر میں بجلی کے بحران نے شدت اختیار کر لی ہے اور نیشنل گرڈ کو ساڑھے تین ہزار میگاواٹ سے زائد کے شارٹ فال کا سامنا ہے۔ اس صورتحال کے باعث ملک بھر کی پاور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کے زیر انتظام علاقوں میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا دورانیہ بڑھ گیا ہے جس سے عوام کی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے۔

لاہور سمیت پنجاب کے مختلف شہروں میں بجلی کی فراہمی شدید متاثر ہوئی ہے۔ لیسکو کے اعداد و شمار کے مطابق کمپنی کو ایک ہزار میگاواٹ سے زائد کے شارٹ فال کا سامنا ہے، جس کی وجہ سے صارفین کو طویل دورانیے کی لوڈشیڈنگ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ معمول کے دو گھنٹے کے برعکس اب چھ گھنٹے تک بجلی بند رکھی جا رہی ہے۔

نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی کے حکام کے مطابق بجلی کی قلت کی بنیادی وجہ آر ایل این جی، ہائیڈرو پاور اور تیل کی ناکافی فراہمی ہے۔ حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ لوڈشیڈنگ کا یہ سلسلہ مزید چند روز تک جاری رہ سکتا ہے کیونکہ بجلی کی پیداوار اور طلب میں توازن برقرار رکھنے میں مشکلات درپیش ہیں۔

دوسری جانب غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں ایک درخواست دائر کر دی گئی ہے۔ جوڈیشل ایکٹیوزم پینل کی جانب سے دائر کردہ اس درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ بھاری بل ادا کرنے کے باوجود شہریوں کو بجلی فراہم نہیں کی جا رہی، جبکہ بجلی کی تقسیم میں بھی امتیازی سلوک روا رکھا جا رہا ہے۔

درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ ملک بھر میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا فوری خاتمہ کیا جائے اور شہریوں کو بلا تعطل بجلی کی فراہمی یقینی بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔ درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بجلی کے طویل تعطل سے کاروباری سرگرمیاں بری طرح متاثر ہو رہی ہیں۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -