وفاقی حکومت کا سول سرونٹس کنڈکٹ رولز میں بڑی تبدیلیوں کا فیصلہ

وفاقی حکومت نے سول سرونٹس کے ضابطہ اخلاق میں بڑی تبدیلیاں متعارف کروا دی ہیں۔ وزیراعظم کی منظوری کے بعد سول سرونٹس کنڈکٹ رولز 2026 کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے، جس کے ساتھ ہی دہائیوں پرانا انتظامی ڈھانچہ تبدیل ہو گیا ہے۔

اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے سول سرونٹس ایکٹ 1973 کے تحت ریگولیٹری فریم ورک میں ترامیم کرتے ہوئے نیا سٹیچوٹری ریگولیٹری آرڈر جاری کیا ہے، جس کا مقصد وفاقی بیوروکریسی میں سرکاری ملازمین کے لیے سخت معیارات کا نفاذ ہے۔

نئے قواعد کے تحت مفادات کے ٹکراؤ کو روکنے اور شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے جامع پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ سرکاری ملازمین کو اپنے عہدے کا ذاتی مفاد کے لیے استعمال کرنے سے سختی سے منع کر دیا گیا ہے جبکہ اثاثوں کی لازمی ڈیکلریشن کو نظام کا مرکزی حصہ بنا دیا گیا ہے۔

گریڈ 17 اور اس سے اوپر کے افسران کے لیے اب ہر سال اپنے اثاثوں کی تفصیلات جمع کرانا لازمی ہوگا۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد اعلیٰ انتظامی سطح پر مالی احتساب کو مضبوط بنانا ہے۔

نئے ضابطہ اخلاق میں سرکاری ملازمین کے سوشل میڈیا کے استعمال پر بھی سخت حدود مقرر کی گئی ہیں۔ اب ملازمین سرکاری پالیسی یا حکومتی موقف کے منافی عوامی رائے کا اظہار نہیں کر سکیں گے۔

اس کے علاوہ تحائف کے حصول، نجی ملازمت اور سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینے پر بھی کڑی نگرانی ہوگی۔ سرکاری ملازمین پر واضح طور پر پابندی عائد کر دی گئی ہے کہ وہ نہ تو کسی سیاسی معاملے میں حصہ لیں گے، نہ سیاسی حمایت کا اظہار کریں گے اور نہ ہی ریاستی پالیسیوں کے خلاف کوئی ایسا بیان دیں گے جس کی تشریح مخالفت کے طور پر کی جا سکے۔

ایس آر او میں سرکاری ملازمین کو ایسی تحریریں، یادداشتیں یا مواد شائع کرنے سے بھی روک دیا گیا ہے جن میں حساس یا خفیہ معلومات شامل ہوں، تاکہ سرکاری رازوں کے تحفظ اور ادارہ جاتی نظم و ضبط کو برقرار رکھا جا سکے۔

ایک اور اہم شق کے تحت سرکاری ملازمین کو نجی شعبے کے اداروں، بشمول بینکوں، کمپنیوں، پرائیویٹ ٹرسٹ، فاؤنڈیشنز یا غیر منافع بخش تنظیموں کے ساتھ کل وقتی یا جز وقتی ملازمت یا وابستگی رکھنے سے بھی منع کر دیا گیا ہے۔

حکام کے مطابق نظرثانی شدہ ضابطہ اخلاق کا مقصد سول سروس میں غیر جانبداری کے اصول کو مستحکم کرنا ہے تاکہ سرکاری افسران اپنے عہدے پر رہتے ہوئے سیاسی اور تجارتی مفادات سے بالاتر رہ سکیں۔

سول سرونٹس کنڈکٹ رولز 2026 کے نفاذ کے ساتھ ہی 1964 سے رائج پرانا فریم ورک منسوخ کر دیا گیا ہے۔ تاہم حکام نے واضح کیا ہے کہ پرانے قواعد کے تحت شروع کی گئی کارروائیاں بدستور برقرار رہیں گی اور ان کا فیصلہ موجودہ قانونی شقوں کے مطابق کیا جائے گا۔

ویب ڈیسک

Recent Posts

ترک وزیر خارجہ کی وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات، صدر طیب اردوان کا خصوصی پیغام پہنچایا

وزیرِ اعظم شہباز شریف نے انطالیہ ڈپلومیسی فورم کے موقع پر ترکیہ کے وزیرِ خارجہ…

54 منٹس ago

امریکی حملے کا خدشہ: کیوبا کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار، صدر ڈیاز کینل

کیوبا کے صدر میگوئل ڈیاز کینل نے خبردار کیا ہے کہ ان کا ملک کسی…

3 گھنٹے ago

امریکی دھمکیوں کے بعد کیوبا کسی بھی ممکنہ حملے کا جواب دینے کے لیے تیار ہے

کیوبا کے صدر میگوئل ڈیاز کینل نے خبردار کیا ہے کہ ان کا ملک امریکا…

4 گھنٹے ago

توہینِ عدالت: لاہور ہائی کورٹ میں پی ٹی اے اور ایف آئی اے کے سربراہان کیخلاف درخواست سماعت کیلئے مقرر

لاہور ہائی کورٹ میں توہین عدالت کی درخواست پر سماعت کے دوران چیئرمین پاکستان ٹیلی…

4 گھنٹے ago

ایران سے معاہدہ طے پایا تو اسلام آباد کا دورہ کر سکتا ہوں، ڈونلڈ ٹرمپ

واشنگٹن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر ایران کے ساتھ جنگ…

5 گھنٹے ago

ملک بھر میں 18 سے 23 اپریل تک طوفانی بارشوں اور ژالہ باری کا الرٹ جاری

نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے ملک بھر میں 18 سے 23 اپریل کے دوران شدید…

5 گھنٹے ago