حکومت سندھ نے صوبے بھر میں روٹ پرمٹ اور فٹنس سرٹیفکیٹ کے بغیر چلنے والی پبلک ٹرانسپورٹ کے خلاف کریک ڈاؤن کا حکم دے دیا ہے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ اینڈ ماس ٹرانزٹ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق، انٹر سٹی اور انٹرا سٹی گاڑیوں کی ایک بڑی تعداد مطلوبہ دستاویزات کے بغیر یا زائد المیعاد پرمٹ پر چلائی جا رہی ہے، جس کے تدارک کے لیے موٹر وہیکلز آرڈیننس 1965 اور رولز 1969 پر سختی سے عمل درآمد کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ نے شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے روٹ پرمٹ اور فٹنس سرٹیفکیٹ کے اجرا کا نظام ڈیجیٹل کر دیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ مینوئل پرمٹس کو جلد منسوخ کر دیا جائے گا تاکہ مکمل طور پر خودکار نظام کو فعال کیا جا سکے۔
حکومت کی جانب سے ٹرانسپورٹرز کو سبسڈی فراہم کی جا رہی ہے جس کی بنیادی شرط کرایوں کو 27 فروری کی سطح پر برقرار رکھنا ہے۔ تاہم نوٹیفکیشن میں نشاندہی کی گئی ہے کہ مسافروں سے زائد کرائے وصول کرنے کی شکایات موصول ہو رہی ہیں۔ حکام کو ہدایت کی گئی ہے کہ مقررہ نرخوں سے زائد کرایہ لینے والوں اور بغیر دستاویزات گاڑی چلانے والوں کے خلاف خصوصی مہم کے تحت سخت کارروائی کی جائے۔
حکم نامے میں اسکول وینز اور انٹر سٹی پبلک ٹرانسپورٹ میں سی این جی اور ایل پی جی کے استعمال پر مکمل پابندی کا اعادہ کیا گیا ہے۔ یہ اقدامات ایسے وقت میں کیے گئے ہیں جب قطر کی جانب سے گیس تنصیبات میں خرابی کے باعث ایل این جی کی ترسیل میں خلل پیدا ہوا ہے، جو پاکستان کی توانائی کی ضروریات کا اہم ذریعہ ہے۔
دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے 10 اپریل کو ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 135 روپے اور پیٹرول کی قیمت میں 12 روپے فی لیٹر کمی کا اعلان کیا تھا۔ وزارت خزانہ کے مطابق نئی قیمتیں بالترتیب 385.54 روپے اور 366.58 روپے فی لیٹر مقرر کی گئی ہیں۔
عالمی منڈی میں ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے تناظر میں سندھ حکومت نے رجسٹرڈ موٹر سائیکل سواروں کو دو ہزار روپے جبکہ پبلک اور گڈز ٹرانسپورٹ آپریٹرز کو 70 ہزار سے ایک لاکھ روپے تک ماہانہ سبسڈی دینے کا اعلان بھی کر رکھا ہے۔
