اسلام آباد میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کی قیادت میں اعلی سطحی وفد کی آمد کے بعد پاکستان اور ایران کے مابین اہم سفارتی روابط کا آغاز ہو گیا ہے۔ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ایرانی ہم منصب کا خیرمقدم کیا، اس موقع پر آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر اور وزیر داخلہ محسن نقوی بھی موجود تھے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے پیغام میں اسحاق ڈار نے کہا کہ وہ ایرانی وزیر خارجہ کے دورہ پاکستان پر انتہائی مسرت محسوس کرتے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس دورے کے دوران ہونے والی ملاقاتیں خطے میں امن اور استحکام کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کریں گی۔
دفتر خارجہ کے مطابق ایرانی وفد جمعہ کی شب اسلام آباد پہنچا جہاں ان کا استقبال نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور آرمی چیف نے کیا۔ اس موقع پر پاکستان میں تعینات ایرانی سفیر رضا امیری مقدم اور وزیر داخلہ محسن نقوی بھی ہمراہ تھے۔
ایرانی وزیر خارجہ اپنے دورہ پاکستان کے دوران ملکی قیادت سے ملاقاتیں کریں گے جن میں علاقائی صورتحال اور قیام امن کی کوششوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ پاکستان کے بعد عباس عراقچی مسقط اور ماسکو کا دورہ بھی کریں گے۔ ایرانی وزیر خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ ہمسایہ ممالک ان کی ترجیحات میں شامل ہیں اور ان دوروں کا مقصد باہمی امور پر قریبی رابطہ کاری اور علاقائی پیش رفت پر مشاورت کرنا ہے۔
دوسری جانب وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیوٹ نے تصدیق کی ہے کہ مشرق وسطیٰ کے لیے امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشیر جیرڈ کشنر ہفتے کے روز پاکستان پہنچیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی وفد ایران کے ساتھ دوسرے دور کے مذاکرات کے لیے پاکستان کا دورہ کر رہا ہے جو پاکستان کی ثالثی میں منعقد ہوں گے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے پاکستان کو ایک بہترین دوست اور ثالث قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکی وفد پاکستانی حکام کی وساطت سے ایرانی نمائندوں سے براہ راست بات چیت کرے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر پاکستان میں ہونے والی پیش رفت سے امریکی صدر اور نائب صدر کو آگاہ کریں گے۔
