پاور ڈویژن نے بدھ کے روز جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ 28 اپریل کو بجلی کی پیداوار اور ترسیل کا نظام مستحکم رہا۔ اس بہتری کی بنیادی وجہ پن بجلی کے منصوبوں سے بہتر پیداوار اور مقامی گیس کی فراہمی میں اضافہ ہے۔
ترجمان کے مطابق، پیک آورز کے دوران پن بجلی سے حاصل ہونے والی کل پیداوار 6 ہزار میگاواٹ رہی، جبکہ ملک میں پن بجلی کی مجموعی تنصیبی صلاحیت 11 ہزار 500 میگاواٹ ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ کچھ پاور پلانٹس کو مقامی گیس کی اضافی فراہمی کے باعث بجلی کی پیداوار میں بہتری دیکھی گئی۔ پن بجلی کی پیداوار میں اضافے اور گیس کی دستیابی نے قومی گرڈ کو مستحکم رکھنے میں اہم کردار ادا کیا، خاص طور پر جنوبی علاقے سے بجلی کی ترسیل میں نمایاں بہتری آئی۔
اس استحکام کے نتیجے میں مرکزی گرڈ میں مزید 100 میگاواٹ بجلی شامل کی گئی، جبکہ مجموعی طور پر جنوبی علاقے سے 500 میگاواٹ بجلی ترسیل کی گئی۔ صورتحال میں بہتری کے باوجود ڈسکوز کی جانب سے رات کے اوقات میں 25 منٹ سے ایک گھنٹے تک لوڈ مینجمنٹ کی گئی۔
تاہم رات 8 بجے کے بعد موسم میں تبدیلی کے باعث بجلی کی طلب میں کمی واقع ہوئی، جس کے بعد کسی قسم کی لوڈ مینجمنٹ کی ضرورت پیش نہیں آئی۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیجنگ کے دورے اور چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ…
اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین سے ملاقات کے لیے چھ رکنی…
اقوام متحدہ کے سابق ہتھیاروں کے معائنہ کار اور امریکی میرین کور کے انٹیلی جنس…
وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے گلگت بلتستان کے دورے کے دوران خطے میں چار…
کراچی میں پانی کی چوری کی روک تھام کے لیے قائم خصوصی تھانہ خود سنگین…
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کے دورے پر پہنچ گئے ہیں، ان کے ہمراہ امریکہ…