فیڈرل ریزرو کا شرح سود برقرار رکھنے کا فیصلہ، 1992 کے بعد سب سے زیادہ اختلاف سامنے آیا

امریکی مرکزی بینک فیڈرل ریزرو نے بدھ کے روز شرح سود کو برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ تاہم، 1992 کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ پالیسی فیصلے پر شدید اختلاف رائے سامنے آیا ہے۔ فیڈ کے تین عہدیداروں نے اس بات پر اعتراض اٹھایا کہ مرکزی بینک کو مستقبل میں شرح سود میں کمی کا عندیہ نہیں دینا چاہیے، جبکہ ایک چوتھے رکن نے شرح سود میں ایک چوتھائی فیصد کمی کے حق میں ووٹ دیا۔

پالیسی بیان میں اعتراف کیا گیا ہے کہ مہنگائی کی شرح بلند ہے جس کی ایک بڑی وجہ عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ ہے۔ فیڈ کے مطابق مشرق وسطیٰ کی صورتحال معاشی منظرنامے میں غیر یقینی صورتحال کا باعث بن رہی ہے۔ یہ فیصلہ 8 کے مقابلے میں 4 ووٹوں سے کیا گیا، جو کہ 6 اکتوبر 1992 کے بعد سب سے متنازعہ فیصلہ ہے۔

شرح سود کو 3.50 سے 3.75 فیصد کی موجودہ سطح پر برقرار رکھنے کے فیصلے کے باوجود کلیولینڈ فیڈ کی صدر بیتھ ہیمک، منیاپولس فیڈ کے صدر نیل کاشکری اور ڈیلاس فیڈ کی صدر لوری لوگن نے پالیسی بیان میں نرمی کے رجحان کو شامل کرنے کی مخالفت کی۔ یہ صورتحال نومنتخب چیئرمین کیون وارش کے لیے ایک بڑا چیلنج ثابت ہو سکتی ہے کیونکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ مسلسل نرم مانیٹری پالیسی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر ہیں، جس نے فیڈرل ریزرو کو دوہرے دباؤ میں ڈال دیا ہے۔ مرکزی بینک یہ فیصلہ کرنے میں مشکلات کا شکار ہے کہ آیا اس صورتحال سے معاشی ترقی سست ہوگی یا مہنگائی میں مزید اضافہ ہوگا۔ فیڈ نے واضح کیا کہ حالیہ مہینوں میں بے روزگاری کی شرح میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں آئی جبکہ معیشت مستحکم رفتار سے بڑھ رہی ہے۔

یہ پالیسی بیان جیروم پاول کی سربراہی میں آخری اہم فیصلوں میں سے ایک سمجھا جا رہا ہے۔ ریپبلکن اکثریتی سینیٹ بینکنگ کمیٹی نے کیون وارش کی نامزدگی کی منظوری دے دی ہے اور توقع ہے کہ اگلے ماہ ان کی تقرری کی باقاعدہ توثیق کر دی جائے گی۔ چیئرمین جیروم پاول کی مدت ملازمت 15 مئی کو ختم ہو رہی ہے، جبکہ وہ اپنی پریس کانفرنس میں مستقبل کے معاشی لائحہ عمل اور اپنی آئندہ کی حیثیت پر بھی بات کر سکتے ہیں۔

مارچ کے اجلاس کے منٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ فیڈ کے حکام کی ایک بڑھتی ہوئی تعداد شرح سود میں اضافے کے امکان پر بھی غور کر رہی ہے۔ عالمی سطح پر تیل کی بڑھتی قیمتوں کے باعث ماہرین خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ یہ وقتی مہنگائی بنیادی معاشی دباؤ میں تبدیل ہو سکتی ہے۔ فیڈ گورنر اسٹیفن میران نے ایک بار پھر روایت برقرار رکھتے ہوئے شرح سود میں ایک چوتھائی فیصد کمی کے حق میں اختلاف رائے ریکارڈ کروایا۔

ویب ڈیسک

Recent Posts

ایران سے مزید 12 پاکستانی شہریوں کی وطن واپسی

ایران میں جاری کشیدگی کے پیش نظر پاکستانی شہریوں کی وطن واپسی کا سلسلہ ساٹھویں…

8 منٹس ago

پیک آورز کے دوران بجلی کی فراہمی میں بہتری، ہائیڈل پیداوار 6 ہزار میگاواٹ تک پہنچ گئی

پاور ڈویژن نے بدھ کے روز جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ 28 اپریل…

14 منٹس ago

خلیجی ممالک میں پاکستانی سفارت خانوں کی جانب سے پاسپورٹ سروسز معطل

سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں قائم پاکستانی سفارت خانوں نے تکنیکی خرابیوں کے…

2 گھنٹے ago

پی ایس ایل 11: حیدرآباد کنگز مین نے ملتان سلطانز کو شکست دے کر ایلیمنیٹر 2 کے لیے کوالیفائی کر لیا

لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں کھیلے گئے پاکستان سپر لیگ کے گیارہویں ایڈیشن کے ناک…

2 گھنٹے ago

اطالوی وزیراعظم کی نیتن یاہو کو نظر انداز کرنے والی وائرل ویڈیو جعلی اور اے آئی سے تیار کردہ نکلی

سوشل میڈیا پلیٹ فارمز ایکس اور یوٹیوب پر 29 اپریل 2026 سے ایک ویڈیو تیزی…

2 گھنٹے ago

فرانس کے ساحل پر پانچ سو سال قدیم تباہ شدہ بحری جہاز سے نوادرات دریافت

فرانسیسی ساحل کے قریب بحیرہ روم کی گہرائیوں میں سولہویں صدی کے ایک تجارتی جہاز…

3 گھنٹے ago