Categories: Newsپاکستان

سندھ کے سرکاری ہسپتالوں میں بریسٹ کینسر کے علاج کی سہولیات کا فقدان، مریضہ خوار

سندھ بھر کے سرکاری ہسپتالوں میں بریسٹ کینسر کے مریضوں کے لیے جامع طبی سہولیات کا فقدان ہے جس کے باعث ہزاروں مریض نجی شعبے کی جانب رجوع کرنے پر مجبور ہیں۔ صوبے کے سرکاری اور ضلعی ہیلتھ کیئر مراکز میں ابتدائی تشخیص کے لیے ضروری میموگرافی جیسی بنیادی سہولیات بھی دستیاب نہیں ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق سندھ میں ہر سال بریسٹ کینسر کے 35 ہزار نئے کیسز سامنے آتے ہیں جبکہ متاثرہ مریضوں کی کل تعداد دو لاکھ کے قریب پہنچ چکی ہے۔ سرکاری ہسپتالوں میں علاج کی ناکافی سہولیات کے باعث 90 فیصد مریض نجی ہسپتالوں کا رخ کرتے ہیں جہاں مہنگے علاج کے اخراجات عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہیں۔

متاثرہ مریض کی تیمارداری کرنے والے الیاس نامی شہری نے بتایا کہ سرکاری ہسپتالوں میں علاج کے دعوے تو کیے جاتے ہیں مگر حقیقت میں وہاں سہولیات مفقود ہیں۔ انہوں نے اپنی اہلیہ کے علاج پر نجی ہسپتال میں 10 لاکھ روپے تک کے اخراجات اٹھائے، جن میں کیموتھراپی کے سیشنز کی بھاری قیمت بھی شامل تھی۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ بروقت علاج نہ ہونے کی وجہ سے ہر سال 14 ہزار خواتین جان کی بازی ہار جاتی ہیں۔ سول ہسپتال کراچی میں سرجری اور کیموتھراپی کی سہولت تو موجود ہے مگر ریڈی ایشن کی سہولت نہیں، جبکہ جناح ہسپتال میں ریڈی ایشن تو دستیاب ہے مگر کیموتھراپی کی ادویات کا قلت کا سامنا ہے۔ کراچی کے کسی بھی ضلعی ہسپتال میں کینسر کے علاج کا کوئی شعبہ قائم نہیں ہے۔

سابق ہیڈ آف آنکولوجی سول ہسپتال پروفیسر ڈاکٹر نور محمد سومرو نے بتایا کہ پاکستان میں آنکولوجسٹس کی تعداد صرف 70 ہے جو مریضوں کے بوجھ کے مقابلے میں انتہائی کم ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ کینسر کے علاج کے تین بنیادی ستون سرجری، کیموتھراپی اور ریڈی ایشن ہیں، جن میں سے کسی ایک کی کمی بھی مریض کی زندگی کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔

پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے زیر انتظام ملک بھر میں 19 کینسر ہسپتال کام کر رہے ہیں جن میں سے پانچ سندھ میں موجود ہیں۔ کراچی میں واقع کرن ہسپتال اور جناح ہسپتال میں قائم مرکز نجی ہسپتالوں کی نسبت سستا علاج فراہم کر رہے ہیں، تاہم مریضوں کی بے پناہ تعداد کے باعث وہاں بھی طویل انتظار کی فہرستیں مریضوں کی مشکلات میں اضافے کا باعث بن رہی ہیں۔

کیموتھراپی کے لیے استعمال ہونے والی مہنگی ادویات درآمدی ہونے کے باعث ڈالر کی قیمت سے منسلک ہیں، جس سے کینسر کا علاج عام شہریوں کی پہنچ سے دور ہوتا جا رہا ہے۔ محکمہ صحت سندھ کے تحت چلنے والے کسی بھی ضلعی ہسپتال میں آنکولوجی کا شعبہ نہ ہونا صوبائی حکومت کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔

ویب ڈیسک

Recent Posts

تائیوان کا تنازعہ: ٹرمپ اور شی جن پنگ کی ملاقات میں سب سے اہم ایشو

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیجنگ کے دورے اور چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ…

4 ہفتے ago

پی ٹی آئی کی جانب سے عمران خان سے ملاقات کے لیے پارٹی رہنماؤں کی فہرست اڈیالہ جیل حکام کے حوالے

اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین سے ملاقات کے لیے چھ رکنی…

4 ہفتے ago

اسکاٹ ریٹر کی جانب سے پاکستان کو نوبل انعام دینے کی حمایت

اقوام متحدہ کے سابق ہتھیاروں کے معائنہ کار اور امریکی میرین کور کے انٹیلی جنس…

4 ہفتے ago

گلگت بلتستان میں دانش اسکولوں کا قیام: خطے میں معیاری تعلیم کے فروغ کی جانب اہم پیش رفت

وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے گلگت بلتستان کے دورے کے دوران خطے میں چار…

4 ہفتے ago

کراچی: پانی چوری روکنے والا پولیس اسٹیشن خود کرپشن کے الزامات کی زد میں

کراچی میں پانی کی چوری کی روک تھام کے لیے قائم خصوصی تھانہ خود سنگین…

4 ہفتے ago

امریکی صدر ٹرمپ کا دورہ چین: ایک ٹریلین ڈالر مالیت کے حامل بڑے کاروباری رہنما ہمراہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کے دورے پر پہنچ گئے ہیں، ان کے ہمراہ امریکہ…

4 ہفتے ago