عالمی سطح پر فائر فائٹرز کا عالمی دن آج پیر کو منایا جا رہا ہے جس کا مقصد ان بہادر جوانوں کو خراج تحسین پیش کرنا ہے جو ہنگامی صورتحال میں اپنی جان خطرے میں ڈال کر شہریوں کی حفاظت کو یقینی بناتے ہیں۔ اس دن کا آغاز 1999 میں آسٹریلیا میں پیش آنے والے ایک افسوسناک واقعے کے بعد ہوا جس میں جنگل کی آگ بجھاتے ہوئے پانچ فائر فائٹرز اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر گئے تھے۔
فائر فائٹرز کا پیشہ نہ صرف منفرد ہے بلکہ انتہائی پرخطر بھی ہے جس کے لیے بے پناہ جرات اور عزم کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ اہلکار محض آگ بجھانے تک محدود نہیں بلکہ پیچیدہ ریسکیو آپریشنز میں بھی کلیدی کردار ادا کرتے ہیں، جہاں انہیں ناموافق حالات میں مہارت اور جدید آلات کا استعمال کرنا پڑتا ہے۔
پاکستان میں ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پنجاب میں ریسکیو 1122 سروس کا قیام 2004 میں عمل میں آیا، جو کہ ایک اہم پیشرفت تھی۔ بعد ازاں 2007 میں فائر ریسکیو سروس کا قیام عمل میں لایا گیا تاکہ آگ بجھانے کے نظام کو مزید مستحکم کیا جا سکے۔
دوسری جانب کراچی میں فائر فائٹرز کو سنگین مسائل کا سامنا ہے۔ کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن مالی مشکلات کے باعث فائر بریگیڈ کے عملے کو ضروری وسائل اور بنیادی سہولیات فراہم کرنے میں شدید دباؤ کا شکار ہے۔ فائر فائٹرز کا عالمی دن منانے کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ ان خاموش ہیروز کو درپیش چیلنجز کے حل کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔
راولپنڈی میں جاری ایک بیان کے مطابق پاکستان نے بھارت کے ساتھ کشیدگی کے دوران…
عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں پیر کے روز معمولی کمی دیکھی گئی ہے،…
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار اور اردن کے نائب وزیراعظم و…
ایرانی پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ امریکہ کو اب ایک مشکل انتخاب کا سامنا…
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے کہا ہے کہ نارووال میں…
ضلع خانیوال کے علاقے عبدالحکیم میں ٹرین کی زد میں آکر انیس سالہ نوجوان جاں…