راولپنڈی میں جاری ایک بیان کے مطابق پاکستان نے بھارت کے ساتھ کشیدگی کے دوران عالمی سطح پر ایک محتاط اور ذمہ دارانہ موقف اپنایا ہے۔ حکومتی پالیسی کے تحت پاکستان نے جارحیت سے گریز کرتے ہوئے اپنے دفاعی عزم کو واضح کیا اور خطے میں امن کے قیام کے لیے مذاکرات پر زور دیا۔
بھارت کی جانب سے نام نہاد آپریشن سندور کے جواب میں پاکستان نے صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا تاہم عالمی فورمز پر بھارت کو کسی بھی قسم کی مہم جوئی یا جارحیت کے سنگین نتائج سے بارہا خبردار کیا۔
برطانیہ میں تعینات پاکستانی ہائی کمشنر ڈاکٹر محمد فیصل نے معرکہ حق سے قبل بھارت کو متنبہ کیا تھا کہ پاکستان فروری 2019 کی طرح کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بھارت کی جانب سے کسی بھی ممکنہ حملے کا جواب اسی کی زبان میں دیا جائے گا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ مسئلہ کشمیر ایک متنازعہ معاملہ ہے جسے اقوام متحدہ کی مداخلت یا دو طرفہ معاہدوں کے ذریعے حل کیا جانا ضروری ہے۔
پہلگام میں پیش آنے والے واقعہ کے حوالے سے حکام کا کہنا ہے کہ بھارت کا بیانیہ حقائق سے کوسوں دور اور بے بنیاد ہے۔
امریکہ میں تعینات پاکستانی سفیر رضوان سعید شیخ نے بھی بھارت کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی حدود میں کسی بھی حملے کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے زور دیا کہ دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان جنگ کے نتائج غیر متوقع اور تباہ کن ہوں گے جن سے بچنا ہی خطے کے مفاد میں ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت کی جانب سے مسلسل اشتعال انگیزی کے باوجود پاکستان نے علاقائی استحکام کو برقرار رکھنے اور بڑے پیمانے پر تباہی سے بچنے کے لیے ہمیشہ پرامن حل اور مذاکرات کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔
فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے صدر…
نیویارک کے سابق میئر اور امریکہ کے معروف سیاست دان روڈی جولیانی کی طبیعت اچانک…
اسلام آباد ہائی کورٹ نے اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ کو ہدایت کی ہے کہ وہ…
نیدرلینڈز سے تعلق رکھنے والے کروز شپ پر ہنٹا وائرس کے مشتبہ پھیلاؤ کے باعث…
عالمی منڈی میں پیر کے روز خام تیل کی قیمتوں میں معمولی کمی ریکارڈ کی…
عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں پیر کے روز معمولی کمی دیکھی گئی ہے،…