عالمی منڈی میں پیر کے روز خام تیل کی قیمتوں میں معمولی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ یہ گراوٹ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز میں پھنسے ہوئے جہازوں کو محفوظ راستہ فراہم کرنے کے اعلان کے بعد سامنے آئی ہے۔ تاہم، امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کے فقدان کے باعث خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل کی نفسیاتی سطح سے اوپر برقرار ہیں۔
برینٹ کروڈ آئل کے سودے 6 سینٹ یا 0 اعشاریہ 1 فیصد کمی کے ساتھ 108 اعشاریہ 11 ڈالر فی بیرل پر آ گئے ہیں۔ جمعہ کے روز اس میں 2 اعشاریہ 23 ڈالر کی کمی دیکھی گئی تھی۔ اسی طرح امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کی قیمت 44 سینٹ یا 0 اعشاریہ 4 فیصد گر کر 101 اعشاریہ 50 ڈالر فی بیرل ہو گئی ہے۔
فلپ نووا کی تجزیہ کار پرینکا سچدیوا کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی میں سپلائی میں تعطل اور جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورتحال کے باعث قیمتوں کو مسلسل سہارا مل رہا ہے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ جب تک آبنائے ہرمز سے معمول کے مطابق ترسیل بحال نہیں ہوتی، قیمتوں کے بلند رہنے کا امکان ہے اور مزید اضافے کے خدشات بدستور موجود ہیں۔
امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث سمندری راستوں پر نقل و حمل تاحال محدود ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا عمل جاری ہے، تاہم جوہری معاہدے کے حوالے سے تہران کا مطالبہ ہے کہ پہلے جنگ کے اثرات کو ختم کیا جائے اور خلیجی جہاز رانی پر عائد ناکہ بندی اٹھائی جائے۔
دریں اثنا، اوپیک پلس نے جون کے مہینے کے لیے اپنے سات رکن ممالک کی پیداوار میں 1 لاکھ 88 ہزار بیرل یومیہ اضافے کا اعلان کیا ہے۔ یہ مسلسل تیسرا مہینہ ہے جب پیداواری اہداف میں اضافہ کیا گیا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ اضافہ محض کاغذی حد تک محدود رہے گا کیونکہ آبنائے ہرمز میں جاری جنگ خلیجی تیل کی سپلائی میں بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔
بھارت کی پانچ ریاستوں اور علاقوں میں ہونے والے انتخابات کے نتائج کی گنتی سخت…
حکومت پنجاب نے اراضی کے تنازعات کو عدالتوں میں جانے سے قبل حل کرنے کے…
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز میں پھنسے ہوئے بحری جہازوں کو…
محکمہ موسمیات کے مطابق پیر کے روز اسلام آباد اور گردونواح میں زلزلے کے شدید…
فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے صدر…
نیویارک کے سابق میئر اور امریکہ کے معروف سیاست دان روڈی جولیانی کی طبیعت اچانک…