حکومت پنجاب نے اراضی کے تنازعات کو عدالتوں میں جانے سے قبل حل کرنے کے لیے پانچ رکنی ثالثی کمیٹیاں قائم کر دی ہیں۔ بورڈ آف ریونیو پنجاب کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق یہ فیصلہ 30 اپریل سے نافذ العمل ہو چکا ہے۔
ان کمیٹیوں کا مقصد عدالتی نظام پر بوجھ کم کرنا اور شہریوں کو فوری انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔ پنجاب لینڈ ریونیو ایکٹ 1967 کی دفعہ 151 (2) کے تحت تشکیل دی گئی یہ کمیٹیاں زیر التواء تنازعات کو 30 روز کی مدت میں نمٹانے کی پابند ہوں گی۔
کمیٹی کی سربراہی متعلقہ اسسٹنٹ کمشنر کریں گے جبکہ دیگر ارکان میں اسسٹنٹ کلکٹر، مقامی ریونیو افسران بشمول گرد اور نمبردار، اور فریقین کے نامزد کردہ تین افراد شامل ہوں گے۔
بورڈ آف ریونیو پنجاب نے ان کمیٹیوں کی کارکردگی کی نگرانی کے لیے ایک خصوصی مانیٹرنگ سیل بھی قائم کر دیا ہے جو ان کے کام کا جائزہ لے گا۔ اس اقدام سے زمینوں کے تنازعات کے دیرینہ مسائل کے حل میں تیزی متوقع ہے۔
عراق کے مقدس شہر نجف میں واقع حضرت علی علیہ السلام کا مزار زائرین کی…
واہگہ بارڈر پر معرکہ حق کی یاد تازہ کرنے کے لیے ایک پروقار تقریب کا…
امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے تناظر میں ایک اہم پیش رفت کے…
نیٹو کے سیکرٹری جنرل مارک روٹے نے کہا ہے کہ یورپی ممالک نے امریکی صدر…
متحدہ عرب امارات کی جانب سے واٹس ایپ کے استعمال کے حوالے سے اہم ضوابط…
بھارت کی پانچ ریاستوں اور علاقوں میں ہونے والے انتخابات کے نتائج کی گنتی سخت…