نیٹو کے سیکرٹری جنرل مارک روٹے نے کہا ہے کہ یورپی ممالک نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پیغامات کو سنجیدگی سے لیا ہے اور اب وہ فوجی اڈوں کے استعمال سے متعلق معاہدوں پر عمل درآمد کو یقینی بنا رہے ہیں۔ آرمینیا میں یورپی سیاسی برادری کے اجلاس کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے تسلیم کیا کہ امریکی جانب سے کچھ مایوسی پائی جاتی تھی تاہم اب یورپی اتحادیوں نے اس پر توجہ دی ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے ماضی میں نیٹو کے بعض رکن ممالک پر ایران کے ساتھ جنگ میں امریکہ کی خاطر خواہ حمایت نہ کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔ اس ناراضی کے اظہار کے طور پر امریکہ نے جرمنی سے پانچ ہزار فوجی واپس بلانے کا اعلان بھی کیا تھا۔
مارک روٹے نے واضح کیا کہ اگرچہ اسپین نے اپنے علاقے میں موجود فوجی اڈوں کو ایران کے خلاف جنگ میں استعمال کرنے سے انکار کیا ہے، تاہم مونٹی نیگرو، کروشیا، رومانیہ، پرتگال، یونان، اٹلی، برطانیہ، فرانس اور جرمنی جیسے ممالک اڈوں کے استعمال اور لاجسٹک سپورٹ کی درخواستوں پر عمل درآمد کر رہے ہیں۔
نیٹو سیکرٹری جنرل نے مزید بتایا کہ یورپی ممالک کی جانب سے خلیج فارس کے قریب مائن ہنٹرز اور مائن سویپرز جیسے اثاثے تعینات کیے جا رہے ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ اگلے مرحلے کے لیے تیاری کو یقینی بنایا جا سکے۔ علاوہ ازیں، متعدد یورپی ممالک نے جنگ کے خاتمے کے بعد آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی کو برقرار رکھنے کے مشن میں حصہ لینے پر بھی آمادگی ظاہر کی ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیجنگ کے دورے اور چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ…
اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین سے ملاقات کے لیے چھ رکنی…
اقوام متحدہ کے سابق ہتھیاروں کے معائنہ کار اور امریکی میرین کور کے انٹیلی جنس…
وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے گلگت بلتستان کے دورے کے دوران خطے میں چار…
کراچی میں پانی کی چوری کی روک تھام کے لیے قائم خصوصی تھانہ خود سنگین…
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کے دورے پر پہنچ گئے ہیں، ان کے ہمراہ امریکہ…