Categories: Newsپاکستان

تنخواہوں میں جمود اور ٹیکسوں میں اضافے سے سرکاری جامعات کے اساتذہ شدید بحران کا شکار

پاکستان کی سرکاری جامعات میں تعینات اعلیٰ تعلیم یافتہ اساتذہ اور محققین شدید مالی بحران کا شکار ہیں جس کے باعث ملک میں انسانی وسائل کا سنگین بحران پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ ٹینیور ٹریک سسٹم کے تحت کام کرنے والے ان ماہرین کی تنخواہوں میں سنہ 2021 سے کوئی اضافہ نہیں کیا گیا جبکہ اسی عرصے کے دوران ان پر ٹیکسوں کا بوجھ 81 فیصد تک بڑھ چکا ہے۔

وفاقی وزارت خزانہ، وزارت منصوبہ بندی اور سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو جمع کرائی گئی تفصیلات کے مطابق، سنہ 2020 کے بعد سے اس شعبے میں نئی بھرتیاں بھی تعطل کا شکار ہیں۔ مہنگائی کی شرح 38 فیصد تک پہنچنے کے باوجود ان ماہرین کی تنخواہیں منجمد ہیں، جس کے باعث یہ طبقہ شدید مایوسی کا شکار ہے۔

وزیر مملکت برائے خزانہ بلال کیانی نے منگل کے روز اساتذہ کے نمائندوں سے ملاقات کی تاہم کسی حتمی حل پر اتفاق نہ ہو سکا۔ وزارت خزانہ نے یک وقتی اضافے کی یقین دہانی تو کرائی ہے لیکن اس میں کچھ الاؤنسز کو خارج کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جس سے اساتذہ کو ملنے والا حقیقی ریلیف نہ ہونے کے برابر ہوگا۔

ٹینیور ٹریک سسٹم سنہ 2002 میں متعارف کرایا گیا تھا جس کا مقصد پی ایچ ڈی محققین کو سرکاری جامعات کی طرف راغب کرنا اور انہیں ریگولر پے اسکیل کے مقابلے میں دوگنی تنخواہ فراہم کرنا تھا۔ تاہم، موجودہ صورتحال یہ ہے کہ بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے یہ اساتذہ، جو ملکی جامعات کی رینکنگ اور بیرونی گرانٹس کے حصول میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، معاشی استحصال کا سامنا کر رہے ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق سنہ 2021 میں اسسٹنٹ پروفیسر کی تنخواہ ایک لاکھ 75 ہزار 500 روپے، ایسوسی ایٹ پروفیسر کی دو لاکھ 63 ہزار 250 روپے اور پروفیسر کی تنخواہ تین لاکھ 94 ہزار 875 روپے مقرر تھی۔ سینیٹ کمیٹی کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ اگر گزشتہ پانچ برسوں میں باقاعدہ اضافہ کیا جاتا تو آج ایک پروفیسر کی تنخواہ سات لاکھ 38 ہزار روپے تک ہونی چاہیے تھی۔

دیگر سرکاری ملازمین کو تنخواہوں میں 71 فیصد اضافہ ملا، تاہم ٹینیور ٹریک اساتذہ اس سے محروم رہے۔ وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کی سربراہی میں قائم کمیٹی نے بھی مسائل کے حل کی سفارشات دی تھیں جن پر وزارت خزانہ نے عمل درآمد نہیں کیا۔

ایسوسی ایشن آف پاکستان ٹینیور ٹریک ٹیچرز کے صدر ڈاکٹر آصف علی کا کہنا ہے کہ وہ نومبر سے وزارت خزانہ کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ اقبال ٹاسک فورس نے تجویز دی تھی کہ تنخواہوں کو بیسک پے اسکیل کے ساتھ منسلک کیا جائے اور اس پر 35 فیصد پریمیم دیا جائے، لیکن یہ سفارشات تاحال سرد خانے کی نذر ہیں۔

وزارت خزانہ کے ایڈیشنل سیکرٹری نے پارلیمانی کمیٹی کو بتایا کہ معاملہ زیر غور ہے اور کوشش کی جا رہی ہے کہ اسے جلد حل کیا جائے، تاہم اس حوالے سے کسی حتمی ٹائم لائن کا تعین نہیں کیا جا سکا۔

ویب ڈیسک

Recent Posts

ایران سے ممکنہ معاہدے کی امید، ٹرمپ کا آبنائے ہرمز میں امریکی مشن روکنے کا اعلان

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے تجارتی…

49 منٹس ago

محکمہ موسمیات کی ملک کے بیشتر حصوں میں موسم گرم اور خشک رہنے کی پیشگوئی

محکمہ موسمیات نے ملک کے بیشتر علاقوں میں آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران موسم گرم…

55 منٹس ago

پاکستان میں سونے کی قیمت میں 2100 روپے کی بڑی کمی

پاکستان میں سونے کی قیمتوں میں منگل کے روز مسلسل گراوٹ کا رجحان دیکھا گیا،…

4 گھنٹے ago

متحدہ عرب امارات کا ایران کی جانب سے میزائل اور ڈرون حملوں کو ناکام بنانے کا دعویٰ

دبئی میں متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع نے منگل کے روز تصدیق کی ہے…

5 گھنٹے ago

بھارتیہ جنتا پارٹی سے شکست کے باوجود بھارتی وزیر اعلیٰ کا استعفیٰ دینے سے انکار

بھارت کی ریاست مغربی بنگال میں انتخابی شکست کے باوجود وزیراعلیٰ ممتا بنرجی نے اپنے…

6 گھنٹے ago