کراچی کے میئر مرتضیٰ وہاب ہیلمٹ اور لائسنس کے بغیر الیکٹرک بائیک پر سندھ اسمبلی پہنچ گئے

میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے کے ایم سی ہیڈ آفس سے سندھ اسمبلی تک الیکٹرک بائیک پر سفر کرکے ماحول دوست سواری کے فروغ کا عملی مظاہرہ کیا۔

سندھ اسمبلی کے مرکزی دروازے پر تعینات پولیس اہلکار نے میئر کو نہ پہچانا اور داخلے کے لیے گیٹ بند کرنے کی کوشش کی، تاہم عملے کی مداخلت کے بعد راستہ کھول دیا گیا۔ اس واقعے کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر زیر گردش ہے۔

صحافیوں نے جب سوال کیا کہ کیا یہ اقدام سیاسی حریف حافظ نعیم الرحمان کے خوف کے باعث کیا گیا، تو مرتضیٰ وہاب نے جواب دیا کہ وہ اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے۔

میئر کراچی نے بتایا کہ کے ایم سی اب تک اپنے ملازمین میں 20 الیکٹرک بائیکس تقسیم کر چکی ہے اور مستقبل میں اس اقدام کو مزید وسعت دی جائے گی۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ یہ ان کا موٹرسائیکل پر پہلا سفر تھا، البتہ وہ ماضی میں سائیکل چلا چکے ہیں۔

مرتضیٰ وہاب نے مزید کہا کہ وہ اسمبلی تو بائیک پر آئے لیکن واپسی اپنی نجی گاڑی میں کی۔ اس موقع پر انہوں نے اعتراف کیا کہ انہیں اس بات کا علم نہیں تھا کہ کار اور موٹرسائیکل کے ڈرائیونگ لائسنس الگ الگ ہوتے ہیں۔

ویب ڈیسک

Recent Posts

تائیوان کا تنازعہ: ٹرمپ اور شی جن پنگ کی ملاقات میں سب سے اہم ایشو

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیجنگ کے دورے اور چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ…

1 مہینہ ago

پی ٹی آئی کی جانب سے عمران خان سے ملاقات کے لیے پارٹی رہنماؤں کی فہرست اڈیالہ جیل حکام کے حوالے

اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین سے ملاقات کے لیے چھ رکنی…

1 مہینہ ago

اسکاٹ ریٹر کی جانب سے پاکستان کو نوبل انعام دینے کی حمایت

اقوام متحدہ کے سابق ہتھیاروں کے معائنہ کار اور امریکی میرین کور کے انٹیلی جنس…

1 مہینہ ago

گلگت بلتستان میں دانش اسکولوں کا قیام: خطے میں معیاری تعلیم کے فروغ کی جانب اہم پیش رفت

وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے گلگت بلتستان کے دورے کے دوران خطے میں چار…

1 مہینہ ago

کراچی: پانی چوری روکنے والا پولیس اسٹیشن خود کرپشن کے الزامات کی زد میں

کراچی میں پانی کی چوری کی روک تھام کے لیے قائم خصوصی تھانہ خود سنگین…

1 مہینہ ago

امریکی صدر ٹرمپ کا دورہ چین: ایک ٹریلین ڈالر مالیت کے حامل بڑے کاروباری رہنما ہمراہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کے دورے پر پہنچ گئے ہیں، ان کے ہمراہ امریکہ…

1 مہینہ ago