صدر آصف علی زرداری کا ‘معرکہ حق’ کو ملکی تاریخ کا فیصلہ کن باب قرار

صدر مملکت آصف علی زرداری نے اسلام آباد میں منعقدہ ایک خصوصی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان نے معرکہ حق کے دوران انتہائی ذمہ دارانہ رویہ اپناتے ہوئے بھارتی جارحیت کا ایک متوازن اور حیران کن جواب دیا۔ انہوں نے اس معرکے کو ملکی تاریخ کا ایک اہم باب قرار دیا۔

پاکستان مونومنٹ پر منعقدہ اس تقریب کا مقصد 22 اپریل کو پہلگام حملے کے بعد شروع ہونے والے تنازع اور 10 مئی کو آپریشن بنیان المرصوص کے نتیجے میں ہونے والی جنگ بندی کی پہلی سالگرہ منانا تھا۔ تقریب میں وزیراعظم شہباز شریف، چیف آف ڈیفنس اسٹاف اینڈ آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف اور ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو سمیت اعلیٰ عسکری و سول حکام، غیر ملکی سفارت کار اور سیاسی رہنما شریک ہوئے۔

صدر زرداری نے بھارت پر الزام عائد کیا کہ اس نے پہلگام میں فالس فلیگ آپریشن کے ذریعے بلا اشتعال جارحیت کا آغاز کیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے بغیر کسی جواز کے پاکستان کے شہری علاقوں اور عبادت گاہوں پر فضائی حملے کیے، جبکہ بھارتی میڈیا نے اس دوران جھوٹے بیانیے کو فروغ دیا۔ صدر نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج نے اپنی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کیا۔

صدر مملکت نے انکشاف کیا کہ پاکستان نے تنازع کے دوران بھارت کے آٹھ طیارے مار گرائے جو قومی عزم اور وقار کا ایک فیصلہ کن لمحہ تھا۔ انہوں نے پاک فضائیہ کے پائلٹس کی پیشہ ورانہ مہارت کو خراج تحسین پیش کیا جنہوں نے عددی اعتبار سے بڑے دشمن کے مقابلے میں ملکی فضائی حدود کا کامیابی سے دفاع کیا۔ انہوں نے پاک بحریہ کی آپریشنل تیاریوں کو بھی سراہا جس نے سمندری سرحدوں کو محفوظ بنایا۔

تقریب سے خطاب میں صدر نے بھارت کی جانب سے دریائے سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی کو آبی دہشت گردی قرار دیا۔ انہوں نے مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کے لیے پاکستان کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل ہونا چاہیے۔ انہوں نے افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ہمسایہ ملک کی زمین کو پاکستان میں دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے دیا جائے۔

صدر زرداری نے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی علاقائی سفارت کاری میں کاوشوں کو سراہا، بالخصوص امریکہ اور ایران کے مابین ثالثی کی کوششوں کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان اقدامات نے پاکستان کو ایک علاقائی استحکام لانے والی قوت کے طور پر منوایا ہے۔ صدر نے اپنے خطاب کے اختتام پر واضح کیا کہ پاکستان کی مسلح افواج ملکی خودمختاری اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ہر وقت تیار ہیں۔

ویب ڈیسک

Recent Posts

تائیوان کا تنازعہ: ٹرمپ اور شی جن پنگ کی ملاقات میں سب سے اہم ایشو

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیجنگ کے دورے اور چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ…

1 مہینہ ago

پی ٹی آئی کی جانب سے عمران خان سے ملاقات کے لیے پارٹی رہنماؤں کی فہرست اڈیالہ جیل حکام کے حوالے

اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین سے ملاقات کے لیے چھ رکنی…

1 مہینہ ago

اسکاٹ ریٹر کی جانب سے پاکستان کو نوبل انعام دینے کی حمایت

اقوام متحدہ کے سابق ہتھیاروں کے معائنہ کار اور امریکی میرین کور کے انٹیلی جنس…

1 مہینہ ago

گلگت بلتستان میں دانش اسکولوں کا قیام: خطے میں معیاری تعلیم کے فروغ کی جانب اہم پیش رفت

وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے گلگت بلتستان کے دورے کے دوران خطے میں چار…

1 مہینہ ago

کراچی: پانی چوری روکنے والا پولیس اسٹیشن خود کرپشن کے الزامات کی زد میں

کراچی میں پانی کی چوری کی روک تھام کے لیے قائم خصوصی تھانہ خود سنگین…

1 مہینہ ago

امریکی صدر ٹرمپ کا دورہ چین: ایک ٹریلین ڈالر مالیت کے حامل بڑے کاروباری رہنما ہمراہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کے دورے پر پہنچ گئے ہیں، ان کے ہمراہ امریکہ…

1 مہینہ ago