وفاقی آئینی عدالت نے نو سالہ بچے کی حوالگی سے متعلق چچا اور تائی کی جانب سے دائر کی گئی درخواست مسترد کر دی ہے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا ہے کہ محض والدہ کی دوسری شادی کی بنیاد پر بچے کی کسٹڈی تبدیل نہیں کی جا سکتی اور قانونی طور پر بچے کی فلاح و بہبود ہی بنیادی اصول ہے۔
مقدمے کی سماعت جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی۔ سماعت کے دوران جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ چچا اور تائی کس بنیاد پر بچے کی حوالگی کے خواہشمند ہیں اور کیا انہوں نے ماضی میں کبھی بچے کی تعلیم یا اس کی کفالت کے بارے میں دریافت کیا ہے۔
درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ بچے کی والدہ نے دوسری شادی کر لی ہے جس پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ صرف اس بنیاد پر بچے کی کسٹڈی تبدیل نہیں کی جا سکتی۔
وکیل کی جانب سے عدالت کو یہ بھی بتایا گیا کہ والدہ نے والد کی جانب سے بچے کو ملنے والا حصہ فروخت کر دیا ہے۔ تاہم عدالت نے اس تمام صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد قرار دیا کہ کسٹڈی کے معاملات کا فیصلہ صرف اور صرف بچے کے بہترین مفاد کو مدنظر رکھ کر کیا جاتا ہے اور ان الفاظ کے ساتھ عدالت نے درخواست خارج کر دی۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیجنگ کے دورے اور چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ…
اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین سے ملاقات کے لیے چھ رکنی…
اقوام متحدہ کے سابق ہتھیاروں کے معائنہ کار اور امریکی میرین کور کے انٹیلی جنس…
وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے گلگت بلتستان کے دورے کے دوران خطے میں چار…
کراچی میں پانی کی چوری کی روک تھام کے لیے قائم خصوصی تھانہ خود سنگین…
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کے دورے پر پہنچ گئے ہیں، ان کے ہمراہ امریکہ…