وزیراعظم شہباز شریف نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا ہے جس میں خطے کی موجودہ صورتحال اور امن و استحکام کے لیے جاری کوششوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ پچاس منٹ تک جاری رہنے والی اس گفتگو کو انتہائی خوشگوار اور تعمیری قرار دیا گیا ہے۔
وزیراعظم نے اس موقع پر واضح کیا کہ پاکستان خطے میں امن اور سلامتی کے فروغ کے لیے اپنی مخلصانہ اور سنجیدہ کوششیں جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ عالمی رہنماؤں سے ان کے حالیہ رابطوں نے جنگ سے متاثرہ خطے میں دیرپا امن کے حصول کے لیے جاری مذاکرات اور سفارت کاری کے حق میں وسیع تر اتفاق رائے پیدا کرنے میں مدد دی ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے 11 اور 12 اپریل کو اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات میں ایرانی وفد کی شرکت کو سراہا اور وزیر خارجہ عباس عراقچی کی قیادت میں آج اسلام آباد آنے والے وفد کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے چیف آف ڈیفنس فورسز اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کے حالیہ دورہ تہران کے دوران ایرانی قیادت کے ساتھ ہونے والی نتیجہ خیز بات چیت کی بھی تعریف کی۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے امن کوششوں میں اہم کردار ادا کرنے پر وزیراعظم شہباز شریف، آرمی چیف عاصم منیر اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے خطے میں امن کے لیے ایران کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ مستقبل میں پاکستان اور ایران کے برادرانہ تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔
وزیراعظم نے ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کے لیے نیک خواہشات اور احترام کا پیغام بھی پہنچایا۔ دونوں رہنماؤں نے باہمی دلچسپی کے امور پر قریبی رابطے برقرار رکھنے اور مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں تعطل کے بعد خطے کی صورتحال میں تبدیلی دیکھی جا رہی ہے۔
