-Advertisement-

پومپئی: مصنوعی ذہانت کے ذریعے آتش فشاں کے شکار قدیم انسان کے چہرے کی بازیافت

تازہ ترین

کویت میں امریکی فوجیوں کی ہلاکت: ڈیموکریٹک سینیٹرز کی پینٹاگون کے خلاف تحقیقات کا آغاز

امریکی سینیٹ کے چار ڈیموکریٹک ارکان نے کویت میں امریکی فوجی اڈے پر ایرانی ڈرون حملے کے حوالے سے...
-Advertisement-

قدیم رومی شہر پومپئی کے ماہرین آثار قدیمہ نے مصنوعی ذہانت کا استعمال کرتے ہوئے 79 عیسوی میں ماؤنٹ ویسویس کے آتش فشاں پھٹنے سے ہلاک ہونے والے ایک شخص کے چہرے کو ڈیجیٹل طور پر دوبارہ تشکیل دے دیا ہے۔ یہ پیش رفت تاریخ کے بدترین قدرتی آفات میں سے ایک کو سمجھنے کے لیے ایک نیا اور اہم ذریعہ ثابت ہوگی۔

یہ ڈیجیٹل پورٹریٹ ایک عمر رسیدہ شخص کا ہے جو آتش فشاں پھٹنے کے دوران ساحل کی جانب فرار ہونے کی کوشش کر رہا تھا۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ شخص تباہی کے ابتدائی لمحات میں ہی آتش فشاں سے گرنے والے ملبے کے نیچے دب کر ہلاک ہو گیا تھا۔

اس تحقیق کو پومپئی آرکیالوجیکل پارک نے یونیورسٹی آف پاڈوا کے اشتراک سے مکمل کیا ہے۔ اس کے لیے پورٹا اسٹابیا نیکروپولس کے قریب کی گئی کھدائیوں سے حاصل کردہ ڈیٹا کا استعمال کیا گیا ہے۔

ماہرین کو اس شخص کے پاس سے ایک مٹی کا برتن ملا ہے، جس کے بارے میں قیاس کیا جا رہا ہے کہ اس نے اسے اپنے سر کو گرتے ہوئے آتش فشاں پتھروں سے بچانے کے لیے ڈھال کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کی تھی۔ اس کے پاس سے ایک چراغ، ایک لوہے کی انگوٹھی اور دس کانسی کے سکے بھی ملے ہیں، جو اس کی زندگی کے آخری لمحات کی عکاسی کرتے ہیں۔

پومپئی پارک کے ڈائریکٹر گیبریل زوچٹریگل کا کہنا ہے کہ آثار قدیمہ کے ڈیٹا کا ذخیرہ اب اتنا وسیع ہو چکا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے بغیر اسے سمجھنا ممکن نہیں رہا۔ انہوں نے کہا کہ اگر اے آئی کا درست استعمال کیا جائے تو یہ کلاسیکی مطالعات میں ایک نئی روح پھونک سکتا ہے۔

اطالوی وزیر ثقافت الیسانڈرو جیولی نے اس منصوبے کو سراہتے ہوئے کہا کہ پومپئی تحقیق کے لیے دنیا کا سب سے باوقار مقام ہے جہاں ہر نئی دریافت قدیم زندگی کے رازوں کو آشکار کرتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جدید طریقہ کار کے استعمال سے ہمیں تاریخ کے نئے زاویے دیکھنے کو مل رہے ہیں۔

اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسکو کی جانب سے عالمی ثقافتی ورثہ قرار دیا گیا پومپئی کا شہر تقریباً دو ہزار سال قبل آتش فشاں کی راکھ تلے دب گیا تھا، جس نے اس شہر اور اس کے مکینوں کو محفوظ کر لیا تھا۔ گزشتہ برس ماہرین نے ایسے شواہد بھی دریافت کیے تھے جن سے پتا چلتا ہے کہ تباہی کے بعد کچھ افراد نے دوبارہ پومپئی میں آباد ہونے کی کوشش کی تھی کیونکہ وہ کہیں اور نئی زندگی شروع کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے تھے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -