پنجاب حکومت نے جیل اصلاحات کے ایجنڈے کے تحت صوبے بھر کی 44 جیلوں میں خواندگی کا ایک وسیع پروگرام شروع کر دیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد جیلوں کو اصلاحی مراکز میں تبدیل کرنا اور قیدیوں میں شرح خواندگی کو سو فیصد تک پہنچانا ہے۔
ٹاسک فورس کے چیئرمین رانا منان خان اور سیکریٹری داخلہ ڈاکٹر احمد جاوید قاضی نے ڈسٹرکٹ جیل لاہور کا دورہ کیا اور وہاں قائم تعلیمی مراکز کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر انہوں نے اساتذہ اور طلباء سے ملاقات بھی کی۔ تقریب میں آئی جی جیل خانہ جات میاں فاروق نذیر، ڈی جی لٹریسی عاصم جاوید اور دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔
صوبہ بھر کی 44 جیلوں میں مجموعی طور پر 176 تعلیمی مراکز قائم کیے گئے ہیں جن میں ایک ہی وقت میں 17 ہزار 600 قیدی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ بڑی جیلوں میں 15 جبکہ چھوٹی جیلوں میں چار مراکز کام کر رہے ہیں۔ پروگرام کے تحت پڑھنے اور پڑھانے والے قیدیوں کو ان کی تعلیمی سرگرمیوں کے عوض سزاؤں میں چھوٹ دی جائے گی جبکہ جیلوں میں ہی تعلیم یافتہ قیدیوں کو بطور استاد تعینات کیا گیا ہے جنہیں محکمہ لٹریسی کی جانب سے معاوضہ بھی ادا کیا جائے گا۔
رانا منان خان نے کہا کہ جیلوں میں داخل ہونے والے ہر قیدی کی تعلیمی جانچ لازمی قرار دی گئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ قیدیوں کی تیار کردہ مصنوعات کی فروخت کے لیے ایک جدید نظام متعارف کرایا گیا ہے تاکہ انہیں معاشرے کا مفید شہری بنایا جا سکے۔
سیکریٹری داخلہ ڈاکٹر احمد جاوید قاضی نے واضح کیا کہ اگر کوئی قیدی تعلیم مکمل کرنے سے پہلے رہا ہوتا ہے تو محکمہ لٹریسی جیل سے باہر بھی اس کی تعلیم جاری رکھنے کو یقینی بنائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ صوبے بھر میں 40 ہزار پروبیشنرز کے لیے بھی ایڈلٹ لٹریسی پروگرام شروع کیا جا رہا ہے۔ ڈاکٹر قاضی کے مطابق جیلوں میں فیملی ملاقاتوں کے لیے بہتر انتظامات، ویلفیئر اسٹورز اور صحت کے پروگرام بھی اصلاحاتی عمل کا حصہ ہیں۔
