-Advertisement-

ٹرمپ کا نیتن یاہو کو معافی دلوانے کے لیے اسرائیلی صدر پر دباؤ میں اضافہ

تازہ ترین

اسرائیلی بحریہ کی غزہ جانے والے امدادی فلوٹیلا کے جہازوں پر کارروائی، عملہ حراست میں

غزہ کی سمندری ناکہ بندی توڑنے کی کوشش کرنے والے گلوبل صمود فلوٹیلا کے 22 جہازوں کو اسرائیلی بحریہ...
-Advertisement-

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی صدر اسحاق ہرتزوگ پر زور دیا ہے کہ وہ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کو بدعنوانی کے مقدمات میں معافی دے دیں۔ ٹرمپ کا موقف ہے کہ جنگ کے دوران نیتن یاہو کا عدالت میں پیش ہونا اسرائیل کے لیے نقصان دہ ہے اور انہیں ایک قومی ہیرو کے طور پر معافی دی جانی چاہیے۔

ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں انکشاف کیا کہ منگل کی شب نیتن یاہو کے ساتھ ان کی گفتگو ہوئی جس میں وزیراعظم نے اپنے بدعنوانی کے ٹرائل کا ذکر کیا۔ ٹرمپ نے کہا کہ جنگ کی صورتحال میں عدالتوں میں الجھنا غیر مناسب ہے اور وہ اس معاملے کو وائن اور سگار سے متعلق معمولی الزامات قرار دیتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر ہرتزوگ انہیں معافی دیتے ہیں تو وہ اسے انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھیں گے۔

اسرائیلی وزیراعظم بدھ کے روز اپنے بدعنوانی کے مقدمے کی سماعت کے دوران عدالت سے جلد رخصت ہوئے۔ انہوں نے عدالت سے درخواست کی تھی کہ سماعت کو تین گھنٹے تک محدود کیا جائے تاہم ججوں نے اس درخواست کو مسترد کر دیا۔ بعد ازاں ججوں نے انہیں غزہ کی پٹی کی جانب جانے والے امدادی فلوٹیلا سے متعلق سکیورٹی مشاورت کے لیے ایک گھنٹے کے لیے عدالت سے جانے کی اجازت دی۔

بنجمن نیتن یاہو کو 2019 میں دائر کیے گئے مقدمات میں بدعنوانی، رشوت ستانی اور اعتماد کو ٹھیس پہنچانے کے الزامات کا سامنا ہے۔ ان مقدمات میں سزا کی صورت میں انہیں قید ہو سکتی ہے۔ اسرائیلی قانون کے تحت معافی کے لیے ملزم کا اپنی غلطی کا اعتراف اور پشیمانی کا اظہار ضروری ہے، تاہم نیتن یاہو نے اب تک کسی بھی غلطی کو تسلیم نہیں کیا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ گزشتہ جون سے نیتن یاہو کے لیے معافی کی مہم چلا رہے ہیں اور وہ ان مقدمات کو اپنے خلاف ہونے والی قانونی کارروائیوں کی طرح ایک انتقامی کارروائی قرار دیتے ہیں۔ اسرائیل میں اکتوبر میں انتخابات متوقع ہیں اور سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر نیتن یاہو انتخابات ہار جاتے ہیں تو ان کی جیل جانے کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔

اس سے قبل مارچ میں ٹرمپ نے اسرائیلی صدر ہرتزوگ کو نیتن یاہو کو معاف نہ کرنے پر سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں کمزور اور شرمناک قرار دیا تھا، تاہم اب ان کا لہجہ قدرے نرم دکھائی دیتا ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -