غزہ کے لیے امدادی سامان لے جانے والے فلوٹیلا کے منتظمین نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی فوج نے بین الاقوامی سمندری حدود میں کارروائی کرتے ہوئے 211 کارکنوں کو اغوا کر لیا ہے۔ ان کارکنوں میں پیرس سٹی کونسل کی ایک رکن بھی شامل ہیں۔
گلوبل صمود فرانس کی ترجمان ہیلین کورون نے ایک آن لائن پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ یہ کارروائی یونان کے جزیرے کریٹ کے قریب کی گئی جو اسرائیل سے غیر معمولی فاصلے پر واقع ہے۔ دوسری جانب امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس نیوز نے رپورٹ کیا ہے کہ اسرائیلی فورسز نے کریٹ کے قریب 22 کشتیوں کو روکا ہے۔
اسرائیلی وزارت خارجہ نے حراست میں لیے گئے افراد کی تعداد 175 بتائی ہے۔ منتظمین کا کہنا ہے کہ اسرائیلی بحری جہازوں نے بین الاقوامی پانیوں میں غیر قانونی طور پر فلوٹیلا کا محاصرہ کیا اور دھمکیاں دیں۔ فلوٹیلا کے مطابق 11 کشتیوں سے مواصلاتی رابطہ منقطع ہو چکا ہے جبکہ اسرائیلی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ سات کشتیوں کو قبضے میں لے لیا گیا ہے۔
فلوٹیلا میں شامل کارکن یاسمین سکولا نے اپنے ساتھیوں کی گرفتاری کو اغوا قرار دیا۔ ترجمان کے مطابق زیر حراست افراد میں پیرس کی کمیونسٹ میونسپل کونسلر رافیل پریمیٹ اور دیگر 10 فرانسیسی شہری شامل ہیں۔ دیگر افراد کی شہریت کے بارے میں فوری طور پر معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔
منتظمین کا کہنا ہے کہ پیرس کے وقت کے مطابق صبح ساڑھے چھ بجے تک فلوٹیلا کی 58 میں سے کم از کم 22 کشتیوں پر اسرائیلی فورسز نے دھاوا بول دیا تھا۔ یاسمین سکولا نے بتایا کہ ان کی کشتی اسکول کا سامان اور خوراک لے کر جا رہی تھی۔
اطالوی حکومت نے ایک بیان میں ان کارروائیوں کی مذمت کرتے ہوئے اپنے شہریوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ فلوٹیلا کے منتظمین نے الزام عائد کیا کہ اسرائیلی فوجی کشتیوں نے لیزر اور خودکار ہتھیاروں کے زور پر کارکنوں کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا۔
یونانی کوسٹ گارڈ کے ذرائع نے بتایا کہ انہیں ایک مدد کی کال موصول ہوئی تھی تاہم موقع پر پہنچنے پر انہیں بتایا گیا کہ کسی مدد کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ فلوٹیلا فرانس، اسپین اور اٹلی کی بندرگاہوں سے روانہ ہوا تھا۔
اسرائیل 2007 سے غزہ کا محاصرہ کیے ہوئے ہے، جس کے باعث وہاں خوراک، پانی اور ادویات کی شدید قلت ہے۔ اکتوبر 2023 میں شروع ہونے والی جنگ کے بعد سے اب تک اسرائیلی کارروائیوں میں 72 ہزار سے زائد فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں جن میں اکثریت عام شہریوں کی ہے۔
