-Advertisement-

جرمنی امریکی فوجیوں کی ممکنہ واپسی کے لیے تیار

تازہ ترین

لندن میں چاقو زنی کے واقعہ کے بعد برطانیہ میں دہشت گردی کا خطرہ ‘شدید’ قرار

برطانیہ نے شمالی لندن کے علاقے گولڈرز گرین میں دو یہودی شہریوں پر چاقو کے حملے کے بعد ملک...
-Advertisement-

جرمنی نے اعلان کیا ہے کہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جرمنی میں تعینات امریکی فوجیوں کی تعداد میں ممکنہ کمی کی دھمکی کے بعد ہر طرح کے حالات کے لیے تیار ہے۔ صدر ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور جنگ کے معاملے پر جرمن چانسلر فریڈرک مرز پر تنقید کے بعد یہ دھمکی دی ہے۔

مراکش کے دورے کے دوران جرمن وزیر خارجہ یوہان ویڈپھول نے کہا کہ ہم اس صورتحال کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نیٹو کے تمام فورمز پر اس معاملے پر قریبی اور باہمی اعتماد کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں اور ہمیں امریکی حکام کی جانب سے حتمی فیصلوں کا انتظار ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایسے کسی بھی فیصلے پر اتحادیوں کے مابین مناسب انداز میں مشاورت کی جائے گی۔

اس سے قبل چانسلر فریڈرک مرز نے اپنے بیان میں کہا کہ مشرق وسطیٰ میں جنگ کے حوالے سے جرمنی کا موقف نیٹو کے اتحاد اور ٹرانس اٹلانٹک شراکت داری کے گرد گھومتا ہے۔ انہوں نے براہ راست صدر ٹرمپ کا نام لیے بغیر کہا کہ برلن واشنگٹن سمیت اپنے تمام شراکت داروں کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے اور ہم یہ سب مشترکہ مفادات اور باہمی احترام کے تحت کر رہے ہیں۔

صدر ٹرمپ کی جانب سے یہ ردعمل اس وقت سامنے آیا جب چانسلر مرز نے رواں ہفتے ایران کے حوالے سے بیان دیا تھا کہ ایران مذاکرات کی میز پر واشنگٹن کو تضحیک کا نشانہ بنا رہا ہے۔ جس کے جواب میں صدر ٹرمپ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر کہا کہ چانسلر مرز کا یہ خیال ہے کہ ایران کا جوہری ہتھیار رکھنا درست ہے اور وہ نہیں جانتے کہ وہ کیا بات کر رہے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ چانسلر مرز کو ایران کے معاملے میں مداخلت کرنے کے بجائے روس اور یوکرین کی جنگ ختم کرنے اور اپنے ملک میں تارکین وطن اور توانائی کے بحران جیسے مسائل پر توجہ دینی چاہیے۔

جرمن وزیر خارجہ یوہان ویڈپھول نے امریکی فوجیوں کی تعداد میں کمی کے حوالے سے کہا کہ وہ اس معاملے پر پرسکون ہیں تاہم انہوں نے واضح کیا کہ جرمنی میں موجود امریکی فوجی اڈے کسی بھی بحث کا حصہ نہیں ہیں۔ انہوں نے ریمسٹین ایئر بیس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ اڈہ امریکا اور جرمنی دونوں کے لیے ناقابل تلافی اہمیت کا حامل ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -