ازبکستان کے شہر خیوا میں تیسرے بین الاقوامی لازگی ڈانس فیسٹیول کا شاندار اختتام ہو گیا۔ اس تین روزہ ایونٹ میں بین الاقوامی سائنسی اور عملی کانفرنس کا انعقاد بھی کیا گیا جس میں دنیا بھر سے ماہرین نے شرکت کی۔
فیسٹیول میں برطانیہ، فرانس، تاجکستان، ترکمانستان، قازقستان، بیلاروس، روس، ترکی، کرغزستان، سربیا، برازیل، کوریا، جاپان، اسپین، مصر، جارجیا، بھارت، یوکرین، بلغاریہ، قطر، آذربائیجان، ازبکستان، آسٹریا، اردن، میکسیکو، گھانا، شمالی مقدونیہ، ایران، چین، پاکستان اور اٹلی سمیت 80 ممالک کے نامور لکھاریوں، صحافیوں، ماہرین تعلیم اور فنکاروں نے شرکت کی۔
فیسٹیول کے دوران ازبکستان ترک مشترکہ ثقافتی کمیشن کا تیسرا اجلاس اور ترکمان ممالک کے آرٹس و ڈانس کے تعلیمی اداروں کے ریکٹرز کی تیسری نشست منعقد ہوئی۔ اس کے علاوہ ترک دنیا کے روایتی رقص کی انتھولوجی پر کانفرنس اور ایتھنو کلچرل فورم بھی ایونٹ کا حصہ رہے۔
پاکستانی وفد میں ڈاکٹر شازیہ انور چیمہ اور وکاس کمار شامل تھے جنہوں نے اپنے سائنسی مقالے پیش کیے۔ اس کے علاوہ چوہدری حامد محمود اور آغا اقرار ہارون نے بین الاقوامی فورم کے مباحثوں میں حصہ لیا۔
ڈاکٹر شازیہ انور چیمہ کے پیش کردہ مقالے کا عنوان فرام اسپیکٹیکل ٹو جیسچر ری سیچویٹنگ لازگی ودہن پنجابی پرفارمنگ آرٹس اینڈ ایمبوڈڈ پرفارمنس تھیوری تھا۔ ان کے اس تحقیقی کام کو بین الاقوامی کانفرنس کے ڈاکومینٹیشن کمپینڈیم میں اشاعت کے لیے منظور کر لیا گیا ہے۔
