-Advertisement-

برطانیہ: یہودی مخالف حملوں کے بعد وزیراعظم کا غزہ مظاہروں میں سخت کارروائی کا مطالبہ

تازہ ترین

شہر میں پانی کا شدید بحران، متعدد علاقے چھ روز سے سپلائی سے محروم

تین کروڑ سے زائد آبادی والے شہر کراچی کو شدید گرمی کی لہر کے دوران پانی کے سنگین بحران...
-Advertisement-

برطانیہ کے وزیراعظم کیئر سٹارمر نے خبردار کیا ہے کہ فلسطین کے حق میں ہونے والے مظاہروں کے دوران مخصوص نعرے بازی کے خلاف سخت کارروائی ناگزیر ہو چکی ہے۔ لندن میں دو یہودی شہریوں پر چاقو کے حملے کے بعد برطانوی یہودیوں کی حفاظت سے متعلق خدشات میں شدید اضافہ ہوا ہے۔

وزیراعظم کیئر سٹارمر نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ احتجاج کے حق کا ہمیشہ دفاع کریں گے لیکن غزہ جنگ کے خلاف بعض مظاہروں پر پابندی عائد کرنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ بار بار ہونے والے مظاہروں کا مجموعی اثر برطانیہ میں یہودی مخالف واقعات میں اضافے کا سبب بن رہا ہے۔

سٹارمر نے خاص طور پر گلوبلائز دی انتفاضہ جیسے نعروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایسے بیانات کے خلاف سخت ایکشن لیا جانا چاہیے۔ انتفاضہ کا لفظ عام طور پر بغاوت کے معنوں میں لیا جاتا ہے۔

لندن کے علاقے گولڈرز گرین میں بدھ کے روز دو یہودی شہریوں کو چاقو کے وار کر کے زخمی کرنے کے واقعے کے بعد پولیس نے پینتالیس سالہ ملزم پر اقدام قتل کی فرد جرم عائد کر دی ہے۔ پولیس نے اس واقعے کو دہشت گردی قرار دیا ہے۔ یہ واقعہ برطانوی دارالحکومت میں عبادت گاہوں پر آتش زنی کے پے در پے واقعات کے بعد پیش آیا ہے۔

میٹروبولیٹن پولیس کے سربراہ مارک رولی نے خبردار کیا ہے کہ برطانوی یہودی تاریخ کے بدترین خطرات کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے سوشل میڈیا کو یہودی مخالف جذبات کو فروغ دینے کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔ رولی کے مطابق دائیں بازو، بائیں بازو اور دیگر انتہا پسند گروپوں کے ساتھ ساتھ کچھ بیرونی ریاستیں بھی یہودیوں کو نشانہ بنا رہی ہیں۔

ان واقعات کے بعد برطانیہ میں دہشت گردی کے خطرے کی سطح کو سبسٹینشل سے بڑھا کر سیویئر کر دیا گیا ہے۔ یہ پانچ درجاتی پیمانے پر دوسرا بلند ترین درجہ ہے جس کا مطلب ہے کہ اگلے چھ ماہ میں دہشت گردی کا حملہ انتہائی متوقع ہے۔ حکومتی حکام کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ صرف گولڈرز گرین واقعے کے بعد نہیں بلکہ انفرادی اور چھوٹے گروپوں کی جانب سے بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر کیا گیا ہے۔

کمیونٹی سیکیورٹی ٹرسٹ کے اعداد و شمار کے مطابق سات اکتوبر دو ہزار تئیس کو حماس کے حملے اور غزہ میں جاری جنگ کے بعد سے برطانیہ میں یہودی مخالف واقعات میں ہوشربا اضافہ ہوا ہے۔ سن دو ہزار بائیس میں ایسے واقعات کی تعداد ایک ہزار چھ سو باسٹھ تھی جو دو ہزار پچیس میں تین ہزار سات سو تک پہنچ گئی ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -