آبنائے ہرمز میں کشیدگی میں خطرناک اضافہ ہوا ہے، جہاں ایران نے امریکی فورسز پر پانچ شہریوں کو ہلاک کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے نے ایک عسکری ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی فورسز نے پاسدارانِ انقلاب کی کشتیوں کے بجائے عام شہریوں کی کشتیوں کو نشانہ بنایا۔
رپورٹ کے مطابق یہ کشتیاں عمان کے علاقے خصب سے ایران جا رہی تھیں جنہیں امریکی حملے میں تباہ کیا گیا۔ اس واقعے میں پانچ افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے اور تہران نے مطالبہ کیا ہے کہ واشنگٹن کو اس کارروائی کا جوابدہ ٹھہرایا جائے۔
اس کے برعکس امریکی سینٹرل کمانڈ کے ایڈمرل بریڈ کوپر نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکی فورسز نے ان چھ ایرانی کشتیوں کو غرق کیا جو آبنائے ہرمز میں پھنسے ہوئے جہازوں کی حفاظت پر مامور مشن میں رکاوٹ ڈال رہی تھیں۔ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس تعداد کو سات قرار دیا تھا۔ تاہم ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ان کی تحقیقات کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کا کوئی جہاز نشانہ نہیں بنا۔
یہ کشیدگی ایسے وقت میں بڑھی ہے جب امریکا پروجیکٹ فریڈم کے تحت آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہ سمندری راستہ 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے بعد سے بند تھا۔ اس صورتحال نے 8 اپریل کو ہونے والی کمزور جنگ بندی کے خاتمے اور خطے میں دوبارہ تنازع کے خدشات کو جنم دیا ہے۔
پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان نے فجیرہ میں تیل کی تنصیبات پر حملے کے کسی بھی منصوبے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ واقعات امریکی فوجی کارروائیوں کا نتیجہ ہیں۔ تہران نے یہ بھی عندیہ دیا ہے کہ وہ اس اہم گزرگاہ پر اپنا کنٹرول برقرار رکھے گا اور حالیہ حملوں کے معاوضے کے طور پر ٹرانزٹ فیس عائد کر سکتا ہے۔
عالمی توانائی کی سپلائی کے لیے اہم سمجھے جانے والے اس راستے پر جاری بحران کے باعث عالمی منڈی میں تیل اور کھاد کی قیمتوں میں اضافہ ہو چکا ہے جس سے معاشی عدم استحکام کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ امریکی حکام کی جانب سے ایران کے تازہ الزامات پر تاحال کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
