-Advertisement-

مشرقِ وسطیٰ تنازع کے خاتمے کے لیے چین کا مزید فعال کردار ادا کرنے کا اعلان

تازہ ترین

پیغامِ اسلام کانفرنس: وزیراعظم شہباز شریف اور آرمی چیف عاصم منیر امن کے علمبردار قرار

اسلام آباد سے جاری ہونے والے پیغامِ اسلام کانفرنس کے اعلامیے میں وزیراعظم شہباز شریف اور چیف آف آرمی...
-Advertisement-

بیجنگ نے مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے اپنا کردار مزید بڑھانے کا اعلان کر دیا ہے۔ چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے بیجنگ میں اپنے ایرانی ہم منصب سید عباس عراقچی کے ساتھ ہونے والی بات چیت کے دوران اس عزم کا اظہار کیا کہ چین خطے میں امن و امان کی بحالی کے لیے اپنی سفارتی کوششیں تیز کرے گا۔

وانگ یی نے کہا کہ لڑائی کا مکمل خاتمہ اب بلا تاخیر ناگزیر ہے اور دوبارہ محاذ آرائی کسی صورت قابل قبول نہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ مذاکرات کا عمل جاری رکھنا ہی واحد حل ہے۔ یہ ملاقات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے متوقع دورہ چین سے ایک ہفتہ قبل ہوئی ہے، جس کے دوران صدر شی جن پنگ سے ان کی ملاقات متوقع ہے۔

چین کی جانب سے یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب وہ آبنائے ہرمز میں سمندری ٹریفک کی بحالی اور خطے میں پائیدار جنگ بندی کے لیے خاموشی سے کردار ادا کر رہا ہے۔ چین اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے مشرق وسطیٰ سے درآمد ہونے والے خام تیل پر انحصار کرتا ہے، جس کا بڑا حصہ اسی گزرگاہ سے آتا ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ سے ملاقات میں وانگ یی نے کہا کہ چین اس بات کا خیرمقدم کرتا ہے کہ ایران نے جوہری ہتھیار نہ بنانے کا عزم ظاہر کیا ہے، تاہم تہران کو جوہری توانائی کے پرامن استعمال کا قانونی حق حاصل ہے۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی حفاظت کے لیے جاری مشن کو روکنے کا اعلان کیا ہے تاکہ ایران کے ساتھ امن معاہدے کی راہ ہموار کی جا سکے۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق ٹرمپ کا دورہ چین چودہ اور پندرہ مئی کو متوقع ہے، تاہم بیجنگ کی جانب سے ان تاریخوں کی تاحال تصدیق نہیں کی گئی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ خطے میں جاری کشیدگی کے اثرات چین کی مینوفیکچرنگ انڈسٹری پر مرتب ہو رہے ہیں، جہاں تیل سے بننے والی مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ چین اب خود کو عالمی سطح پر ایک مستحکم شراکت دار کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -