-Advertisement-

امریکہ: فلسطین حامی طالب علم مہدوی کے خلاف ملک بدری کی کارروائی دوبارہ شروع

تازہ ترین

میکسیکو: صحافیوں کے قتل کے واقعات میں تشویشناک حد تک اضافہ

میکسیکو صحافیوں کے لیے ایک بار پھر خطے کا خطرناک ترین ملک قرار پایا ہے۔ برطانیہ میں قائم صحافتی...
-Advertisement-

امریکی امیگریشن بورڈ آف اپیلز نے کولمبیا یونیورسٹی کے طالب علم محسن مہدوی کی ملک بدری کی کارروائی دوبارہ شروع کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ محسن مہدوی کو گزشتہ برس فلسطین کے حق میں مظاہروں میں شرکت کے بعد حراست میں لیا گیا تھا۔

رواں برس فروری میں ایک امریکی امیگریشن جج نے ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے طالب علم کو ملک بدر کرنے کی کوششوں کو مسترد کر دیا تھا۔ تاہم اب محکمہ انصاف کے ایگزیکٹو آفس فار امیگریشن ریویو کے ماتحت کام کرنے والے بورڈ نے نچلی عدالت کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا ہے۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ جس جج نینا فریس نے گزشتہ ماہ محسن مہدوی کی ملک بدری رکوانے کا فیصلہ دیا تھا، انہیں ٹرمپ انتظامیہ نے عہدے سے برطرف کر دیا ہے۔

صدر ٹرمپ کا موقف ہے کہ محسن مہدوی جیسے کارکنان انتہا پسندی کی حمایت کرتے ہیں اور امریکی خارجہ پالیسی کے لیے خطرہ ہیں۔ دوسری جانب انسانی حقوق کے کارکنان اور بعض یہودی گروہوں کا کہنا ہے کہ حکومت اسرائیل کی غزہ میں جارحیت پر تنقید کو یہود دشمنی سے جوڑ کر اختلاف رائے کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔

محسن مہدوی نے اپنی قانونی ٹیم کے توسط سے جاری بیان میں کہا ہے کہ حکومت اختلاف رائے کو خاموش کرنے کے لیے امیگریشن کے نظام کو ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔

محسن مہدوی، جو مقبوضہ مغربی کنارے کے ایک پناہ گزین کیمپ میں پیدا ہوئے، کو اپریل 2025 میں شہریت کے انٹرویو کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔ انہیں دو ہفتوں بعد عدالت کے حکم پر رہا کر دیا گیا تھا اور ان پر کسی بھی جرم کا کوئی باقاعدہ الزام عائد نہیں کیا گیا تھا۔

امریکن سول لبرٹیز یونین، جو اس کیس میں محسن مہدوی کی نمائندگی کر رہی ہے، کا کہنا ہے کہ وفاقی عدالت میں گرفتاری کو چیلنج کیے جانے کے باعث فی الحال انہیں ملک بدر نہیں کیا جا سکتا۔

ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے فلسطین کے حق میں مظاہرہ کرنے والے غیر ملکی طلبہ کو ملک بدر کرنے، یونیورسٹیوں کی فنڈنگ منجمد کرنے اور تارکین وطن کی آن لائن سرگرمیوں کی کڑی نگرانی کرنے کے اقدامات نے اظہار رائے کی آزادی اور تعلیمی خودمختاری پر سنگین خدشات پیدا کر دیے ہیں۔

اسی دوران تعلیمی اداروں میں بھی دباؤ بڑھ رہا ہے۔ یونیورسٹی آف مشی گن کے پروفیسر ڈیرک پیٹرسن کی جانب سے مظاہرین کی حمایت پر یونیورسٹی نے معافی مانگی ہے، جبکہ رٹگرز یونیورسٹی نے اسرائیل کے ناقد کاروباری رہنما رامی الغندور کا دعوت نامہ منسوخ کر دیا ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -