-Advertisement-

ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کی شرائط مسترد، جنگ کے خاتمے کے امکانات معدوم

تازہ ترین

میکسیکو: منشیات فروش گروہ کا سرغنہ گرفتار، 7 شیر اور اسلحہ برآمد

میکسیکو حکام نے پیر کے روز ایک اہم کارروائی کے دوران امریکی سرحد کے قریب فعال بدنام زمانہ کارٹیل...
-Advertisement-

ایران نے پیر کے روز مطالبہ کیا ہے کہ اس کے منجمد اثاثے بحال کیے جائیں اور ایرانی بندرگاہوں پر امریکی ناکہ بندی کا خاتمہ کیا جائے۔ یہ مطالبہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں جنگ روکنے کے لیے تہران کی شرائط مسترد کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ اس کشیدگی کے بعد خطے میں کھلے تنازعے کے خدشات بڑھ گئے ہیں جبکہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں چار فیصد سے زائد کا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر تہران کی تجاویز کو مکمل طور پر ناقابل قبول قرار دیا ہے۔ اس صورتحال پر سعودی آئل کمپنی آرامکو کے سی ای او امین ناصر نے خبردار کیا ہے کہ توانائی کی سپلائی میں پیدا ہونے والا تعطل تاریخ کا سب سے بڑا بحران ہے اور اگر آبنائے ہرمز فوری طور پر نہ کھلی تو حالات معمول پر آنے میں دو ہزار ستائیس تک کا وقت لگ سکتا ہے۔

اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یو این او پی ایس کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر جارج موریرا ڈا سلوا نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ بحران حل نہ ہوا تو دنیا ایک بڑے انسانی المیے کی طرف بڑھ سکتی ہے جس کے نتیجے میں پینتالیس ملین مزید افراد بھوک اور افلاس کا شکار ہو سکتے ہیں۔ آبنائے ہرمز سے دنیا بھر کی تیل اور ایل این جی کی پانچویں بڑی مقدار گزرتی ہے جس کی بندش سے کھاد کی قلت پیدا ہو رہی ہے جو براہ راست خوراک کی فراہمی کو متاثر کر رہی ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پریس کانفرنس میں واضح کیا کہ تہران نے امریکی ناکہ بندی کے خاتمے اور خطے میں جاری جنگ بالخصوص لبنان میں حزب اللہ کے خلاف اسرائیلی حملے روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے صرف اپنے جائز حقوق مانگے ہیں جن میں غیر ملکی بینکوں میں برسوں سے پھنسے ایرانی عوام کے اثاثوں کی واپسی شامل ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے امریکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تنازع اس وقت تک ختم نہیں ہوگا جب تک ایران کی جوہری تنصیبات تباہ اور افزودہ یورینیم کو ملک سے باہر منتقل نہیں کر دیا جاتا۔ دی وال اسٹریٹ جنرل کے مطابق ایران نے کچھ افزودہ یورینیم کو کم کرنے اور باقی کو کسی تیسرے ملک منتقل کرنے کی تجویز دی تھی تاہم تہران نے اس کی واپسی کی ضمانت مانگی تھی۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ رواں ہفتے بیجنگ کے دورے کے دوران چینی صدر شی جن پنگ سے ایران کے معاملے پر بات کریں گے۔ دریں اثنا ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے ترجمان ابراہیم رضائی نے خبردار کیا ہے کہ ایران کا تحمل ختم ہو چکا ہے اور اب کسی بھی امریکی حملے کا جواب براہ راست امریکی بحری جہازوں اور اڈوں پر دیا جائے گا۔ تہران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں گزرنے والے بحری جہازوں سے ٹول وصول کرنے کے اقدام کو واشنگٹن نے ناقابل قبول قرار دیا ہے۔

اہم خبریں

-Advertisement-

مزید خبریں

- Advertisement -