امریکی سینیٹ نے ایران کے خلاف ٹرمپ کے جنگی اختیارات محدود کرنے کی قرارداد مسترد کر دی

واشنگٹن میں امریکی سینیٹ نے بدھ کے روز ایک ایسی قرارداد کو مسترد کر دیا ہے جس کا مقصد صدر ٹرمپ کو ایران کے خلاف جنگی کارروائیوں میں توسیع سے روکنا تھا۔ ایران کے خلاف جاری فوجی آپریشن کو چار ہفتے مکمل ہونے کے قریب ہیں، تاہم سینیٹ میں اس قرارداد کے حق میں مطلوبہ حمایت حاصل نہ ہو سکی۔

قرارداد کے خلاف 47 کے مقابلے میں 53 ووٹ ڈالے گئے۔ یہ تیسرا موقع ہے جب ڈیموکریٹس کی جانب سے صدر ٹرمپ کے فوجی اختیارات کو محدود کرنے کی کوشش ناکام ہوئی ہے۔ سینیٹر جان فیٹرمین واحد ڈیموکریٹ تھے جنہوں نے اپنی جماعت کے موقف کے برعکس قرارداد کے خلاف ووٹ دیا، جبکہ ریپبلکن سینیٹر رینڈ پال نے قرارداد کی حمایت کی۔

نیو جرسی سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کوری بکر کی جانب سے پیش کردہ اس قرارداد میں صدر کو پابند کیا گیا تھا کہ وہ ایران کے اندر یا اس کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں، الا یہ کہ کانگریس کی جانب سے باقاعدہ جنگ کا اعلان یا فوجی طاقت کے استعمال کی خصوصی اجازت موجود ہو۔ تاحال کانگریس نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کی کوئی منظوری نہیں دی ہے۔

یہ ووٹنگ ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ریپبلکن ارکان انتخابی قانون سازی پر طویل بحث میں مصروف ہیں اور صدر ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ جب تک یہ اقدام منظور نہیں ہوتا، وہ کسی اور بل پر دستخط نہیں کریں گے۔ ڈیموکریٹس نے ضابطہ کار کی سہولت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اس قرارداد پر ووٹنگ کروانے میں کامیابی حاصل کی۔

اس سے قبل چار مارچ کو سینیٹر ٹم کین کی جانب سے پیش کردہ اسی نوعیت کی ایک قرارداد بھی ناکام ہو چکی ہے۔ گزشتہ جون میں ایرانی جوہری تنصیبات پر امریکی فضائی حملوں کے بعد سے یہ دوسرا موقع ہے جب ایوان بالا نے صدر ٹرمپ کے ایران پر حملے کے اختیارات کو محدود کرنے کی کوشش کو مسترد کیا ہے۔

ایران کے ساتھ جاری تناؤ کو ایک ماہ مکمل ہونے کے قریب ہے، تاہم صدر ٹرمپ کی جانب سے تاحال کوئی واضح انخلا کی حکمت عملی پیش نہیں کی گئی ہے اور نہ ہی انہوں نے زمینی فوج بھیجنے کے امکان کو مسترد کیا ہے۔ صدر کا کہنا ہے کہ انہیں توقع ہے کہ جنگ جلد ختم ہو جائے گی لیکن انہوں نے اس کی کوئی حتمی تاریخ نہیں بتائی ہے۔

سینیٹر کرس مرفی نے الزام عائد کیا کہ ٹرمپ انتظامیہ ایران پر عوامی سماعتوں سے اس لیے گریز کر رہی ہے کیونکہ انہیں عوامی حمایت کھونے کا ڈر ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتظامیہ اس جنگ کا دفاع کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے اور انہیں امریکی عوام کو ایندھن کی بلند قیمتوں اور جنگی مقاصد کے بارے میں جواب دینا پڑے گا۔

ادھر ڈائریکٹر نیشنل انٹیلیجنس تلسی گبارڈ نے ایران کی جانب سے امریکہ کو لاحق فوری خطرے کے حوالے سے صدر ٹرمپ کے دعووں پر براہ راست جواب دینے سے گریز کیا۔ انتظامیہ اور ریپبلکن ارکان کا موقف ہے کہ صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف حملوں کا حکم دے کر اپنے قانونی اختیارات کا استعمال کیا ہے۔

صدر ٹرمپ نے کانگریس کو لکھے گئے ایک خط میں دعویٰ کیا تھا کہ ایران کے خلاف اقدامات امریکی مفادات کے تحفظ کے لیے ناگزیر تھے۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ اس وقت فوجی آپریشن کے مکمل دائرہ کار اور دورانیے کا تعین کرنا ممکن نہیں ہے۔

ویب ڈیسک

Recent Posts

ایچ بی ایل پی ایس ایل فائنل: پشاور زلمی کے خلاف حیدرآباد کنگز مین 129 رنز پر ڈھیر

لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں کھیلے جا رہے ایچ بی ایل پاکستان سپر لیگ کے…

5 منٹس ago

جرمنی کا ایران سے آبنائے ہرمز کھولنے اور جوہری پروگرام ترک کرنے کا مطالبہ

جرمن وزیر خارجہ جوہن ویڈفل نے اپنے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی کے ساتھ ٹیلی…

59 منٹس ago

سویڈش کوسٹ گارڈ کی بحیرہ بالٹک میں روسی شیڈو فلیٹ کے مشتبہ آئل ٹینکر پر کارروائی

سویڈن کے کوسٹ گارڈ نے بحیرہ بالٹک میں روس کے مبینہ شیڈو فلیٹ سے تعلق…

1 گھنٹہ ago

جرمن وزیر خارجہ کا ایرانی ہم منصب سے آبنائے ہرمز کھولنے کا مطالبہ

برلن میں جرمن وزیر خارجہ جوہن ویڈے فُل نے اپنے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی…

2 گھنٹے ago

بھارت افغانستان کے ذریعے پاکستان کے خلاف پراکسی جنگ لڑ رہا ہے، وزیر دفاع

وفاقی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے دعویٰ کیا ہے کہ بھارت افغانستان کی سرزمین…

2 گھنٹے ago

ایران: نوبل انعام یافتہ نرگس محمدی کی طبیعت تشویشناک، ہسپتال منتقل

نوبل انعام یافتہ قیدی نرگس محمدی کی طبیعت تشویشناک حد تک بگڑ گئی ہے، جس…

2 گھنٹے ago