وسطی اسرائیل پر نصف شب کے بعد سے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کے ساتویں حملے کیے گئے ہیں جس کے بعد خطے میں جاری کشیدگی ایک انتہائی خطرناک مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ سی بی سی نیوز کے مطابق تل ابیب اور گوش ڈان کے علاقوں میں دن بھر سائرن بجتے رہے جس کے بعد شہریوں نے محفوظ مقامات پر پناہ لے لی جبکہ اسرائیلی ڈیفنس فورسز نے جوابی کارروائی کے لیے انٹرسیپٹر بیٹریز کو متحرک کر دیا ہے۔
یہ کشیدگی بدھ کے روز ایران کے ساؤتھ پارس گیس فیلڈ پر ہونے والے حملے کے بعد شروع ہوئی۔ یہ دنیا کا سب سے بڑا قدرتی گیس کا ذخیرہ ہے جسے تہران نے شہری توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر خطرناک اور غیر ذمہ دارانہ حملہ قرار دیا ہے۔ اگرچہ اسرائیلی فوج نے باضابطہ طور پر اس آپریشن کی تفصیلات کی تصدیق نہیں کی ہے تاہم اس حملے کے بعد شروع ہونے والا جوابی کارروائیوں کا سلسلہ خلیج فارس اور لیونٹ کے شہری مراکز اور توانائی کے مراکز کو شدید متاثر کر رہا ہے۔
تہران کا کہنا ہے کہ یہ میزائل حملے معاشی جنگ کے خلاف ردعمل ہیں۔ پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ آج کے حملوں میں ملٹی وار ہیڈ ٹیکنالوجی سے لیس بیلسٹک میزائل استعمال کیے گئے ہیں۔ تل ابیب میں فضا میں میزائلوں کے تباہ ہونے سے گرنے والے ملبے کے باعث ساویڈور سینٹرل ریلوے اسٹیشن کو نقصان پہنچا جس کے بعد ملک بھر میں ریل سروس معطل کر دی گئی ہے۔
تنازع کے انسانی اثرات بھی بڑھ رہے ہیں۔ ویسٹ بینک میں فلسطینی طبی حکام نے ہیبرون کے قریب ایرانی میزائلوں کے گرنے سے تین خواتین کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیموں کا اندازہ ہے کہ فروری کے اواخر سے امریکی اور اسرائیلی فورسز کی فضائی مہم کے نتیجے میں ایران میں تین ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ساؤتھ پارس پر حملے سے ایرانی عوام کے لیے گیس اور بجلی کا بحران مزید سنگین ہونے کا خدشہ ہے۔
توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کے بعد عالمی معیشت میں ہلچل مچ گئی ہے۔ ایران کی جانب سے قطر، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب میں راس لفان ایل این جی ہب اور سامریف ریفائنری کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔ ان واقعات کے بعد برینٹ کروڈ کی قیمتیں 115 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہیں جبکہ آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل عملی طور پر رک گئی ہے۔
عرب لیگ اور متعدد خلیجی ممالک نے توانائی تنصیبات پر حملوں کی مذمت کرتے ہوئے اسے عالمی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔ واشنگٹن میں صدر ٹرمپ نے ساؤتھ پارس حملے سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے تاہم خبردار کیا ہے کہ اگر قطر میں امریکی اتحادی اثاثوں کو نشانہ بنایا گیا تو بھرپور جواب دیا جائے گا۔ عالمی سطح پر شہری تنصیبات کو نشانہ نہ بنانے کے مطالبات کے باوجود سفارتی حل کی عدم موجودگی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ جوابی کارروائیوں کا یہ سلسلہ مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔
ایکواڈور کے صدارتی امیدوار فرنینڈو ولاویسینسیو کے قتل میں مطلوب ملزم کو میکسیکو سے گرفتار…
برطانوی نشریاتی ادارے کے میزبان پیئرز مورگن اپنے شو پیئرز مورگن اَن سینسرڈ کے دوران…
عید الفطر کی آمد کے ساتھ ہی وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے بازاروں میں خریداروں…
کراچی میں عید الفطر کی آمد کے ساتھ ہی جہاں شہر بھر میں خوشیوں کا…
صوبائی وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری کا کہنا ہے کہ رمضان پیکیج کی تقسیم کا…
پاکستان سپر لیگ کے گیارہویں ایڈیشن کا ترانہ مداحوں کی توجہ کا مرکز بننے کے…