سوئٹزرلینڈ نے ایران کے خلاف جاری امریکی حملوں کے تناظر میں امریکہ کو جنگی سازوسامان کی برآمد کے لیے نئے لائسنس جاری کرنے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ سوئس حکومت کا کہنا ہے کہ ملکی غیر جانبداری کے اصول کے تحت کسی بھی ایسے ملک کو جنگی سامان برآمد کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی جو ایران کے ساتھ جاری بین الاقوامی مسلح تنازع میں ملوث ہو۔
حکومتی بیان کے مطابق موجودہ صورتحال کے پیش نظر امریکہ کے لیے جنگی سازوسامان کی برآمدات کو فی الحال منظور نہیں کیا جا سکتا۔ اس سے قبل گزشتہ ہفتے سوئس حکومت نے ایران سے متعلق جنگی پروازوں کے لیے امریکہ کی جانب سے کی گئی دو درخواستوں کو مسترد کر دیا تھا جبکہ تین پروازوں کو غیر جانبداری کے قوانین کے تحت اجازت دی گئی تھی۔
سوئٹزرلینڈ کی جانب سے یہ اقدام 2003 میں عراق پر امریکی حملے کے دوران اختیار کیے گئے مؤقف سے مماثلت رکھتا ہے، جب سوئس حکومت نے جنگ میں ملوث ممالک کی فضائی حدود کے استعمال اور اسلحہ کی برآمد پر پابندی عائد کر دی تھی۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 28 فروری کو ایران پر اسرائیل اور امریکہ کے حملوں کے بعد سے امریکہ کو جنگی سازوسامان برآمد کرنے کا کوئی نیا لائسنس جاری نہیں کیا گیا۔ مزید برآں، حکام نے واضح کیا ہے کہ اسرائیل کو بھی گزشتہ کئی برسوں سے جنگی سازوسامان کی برآمد کا کوئی حتمی لائسنس نہیں دیا گیا ہے۔
سوئس حکومت نے اعلان کیا ہے کہ ماہرین پر مشتمل ایک گروپ امریکہ کو برآمد کی جانے والی ان اشیاء کے حوالے سے پیش رفت کا باقاعدگی سے جائزہ لے گا تاکہ غیر جانبداری کے قوانین کے تناظر میں مزید ضروری اقدامات کا تعین کیا جا سکے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیجنگ کے دورے اور چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ…
اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین سے ملاقات کے لیے چھ رکنی…
اقوام متحدہ کے سابق ہتھیاروں کے معائنہ کار اور امریکی میرین کور کے انٹیلی جنس…
وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے گلگت بلتستان کے دورے کے دوران خطے میں چار…
کراچی میں پانی کی چوری کی روک تھام کے لیے قائم خصوصی تھانہ خود سنگین…
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کے دورے پر پہنچ گئے ہیں، ان کے ہمراہ امریکہ…