جنوبی کوریا کے شہر ڈیجون میں کار کے پرزے بنانے والی فیکٹری میں آتشزدگی کے المناک واقعے کے بعد امدادی ٹیموں نے ملبے سے لاشوں کی تلاش کا کام شروع کر دیا ہے۔ حکام کے مطابق اس افسوسناک حادثے میں اب تک 11 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو چکے ہیں۔
وزارت داخلہ کے ڈیزاسٹر مینجمنٹ حکام نے تصدیق کی ہے کہ واقعے میں 25 افراد شدید زخمی ہیں جبکہ 34 افراد معمولی زخمی ہوئے ہیں۔ اس وقت بھی تین افراد لاپتہ ہیں جن کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے۔
فیکٹری میں آگ لگنے کا واقعہ جمعہ کی دوپہر ایک بجے پیش آیا۔ عینی شاہدین کے مطابق آگ لگنے کے دوران دھماکے کی آواز سنی گئی جس کے بعد شعلوں نے پوری عمارت کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ ابتدائی طور پر عمارت کے گرنے کے خطرے اور وہاں موجود سوڈیم کے ذخیرے کے باعث فائر فائٹرز کو کارروائی میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
رپورٹس کے مطابق جس وقت آگ لگی فیکٹری میں تقریباً 170 ملازمین موجود تھے۔ سنیچر کی سہ پہر تک آگ پر مکمل قابو پا لیا گیا ہے۔ حکام نے تاحال آتشزدگی کی حتمی وجہ بیان نہیں کی ہے۔
صدر لی جائے میونگ نے حکام کو ہدایت کی ہے کہ امدادی کارروائیوں کے لیے تمام دستیاب وسائل، عملے اور جدید آلات کو بروئے کار لایا جائے۔ صدر نے ملک میں صنعتی شعبے میں کام کرنے والوں کی حفاظت کو یقینی بنانے پر زور دیا ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سن 2000 سے 2024 کے دوران جنوبی کوریا میں کام کے دوران 10 ہزار سے زائد ملازمین اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ یاد رہے کہ ستمبر میں جنوبی کوریا کی عدالت نے بیٹری بنانے والی ایک کمپنی کے سی ای او کو صنعتی حادثے میں 22 افراد کی ہلاکت پر 15 سال قید کی سزا سنائی تھی۔
روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے ایرانی قیادت کو نوروز کی مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے…
امریکی وفاقی جیوری نے ایلون مسک کو ٹوئٹر شیئر ہولڈرز کے ساتھ دھوکہ دہی کا…
اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے ایران اور حزب اللہ کے خلاف جاری عسکری کارروائیوں…
وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ عید کے پرمسرت موقع پر دہشت…
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے ڈونلڈ ٹرمپ کے بورڈ آف پیس کے…
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے قوم کو عید الفطر کی مبارکباد پیش کرتے ہوئے…