تہران (ویب ڈیسک) ایران کے اٹامک انرجی آرگنائزیشن نے تصدیق کی ہے کہ ہفتے کے روز ایک مشترکہ فضائی حملے میں نطنز میں واقع ملک کے کلیدی جوہری تنصیب کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ ایرانی حکام نے اس کارروائی کا ذمہ دار امریکہ اور اسرائیل کو ٹھہرایا ہے جس سے خطے میں جاری کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔
تسنیم نیوز ایجنسی کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق ایرانی جوہری ادارے نے نطنز اینرچمنٹ کمپلیکس پر ہونے والے اس حملے کو ایک مجرمانہ کارروائی قرار دیا ہے۔ تہران نے واشنگٹن اور قابض صہیونی ریاست کو اس حملے کا براہ راست ذمہ دار قرار دیا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ اس حملے کے نتیجے میں کسی قسم کا تابکار مواد خارج نہیں ہوا ہے اور تنصیب کے قریبی علاقوں میں رہائش پذیر شہریوں کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ حملے کے بعد صورتحال قابو میں ہے اور مقامی آبادی مکمل طور پر محفوظ ہے۔
نطنز کی جوہری تنصیب تہران سے تقریباً دو سو بیس کلومیٹر جنوب مشرق میں واقع ہے اور اسے ایران کا اہم ترین یورینیم افزودگی کا مرکز سمجھا جاتا ہے۔ یہ مقام طویل عرصے سے ایران کے جوہری پروگرام پر عالمی تشویش کا مرکز رہا ہے اور ماضی میں بھی کشیدگی کے دوران اسے نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔
یہ حملہ جون ۲۰۲۵ میں ایران اور اسرائیل کے درمیان بارہ روزہ جنگ کے دوران ہونے والی کشیدگی کے بعد کیا گیا ہے۔ اس سے قبل جون کے پہلے ہفتے میں بھی اسی تنصیب کو نقصان پہنچا تھا جس کی سیٹلائٹ تصاویر سے کمپلیکس کی متعدد عمارتوں کو نقصان پہنچنے کی تصدیق ہوئی تھی، تاہم اس وقت نقصان کی مکمل نوعیت کو خفیہ رکھا گیا تھا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیجنگ کے دورے اور چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ…
اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین سے ملاقات کے لیے چھ رکنی…
اقوام متحدہ کے سابق ہتھیاروں کے معائنہ کار اور امریکی میرین کور کے انٹیلی جنس…
وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے گلگت بلتستان کے دورے کے دوران خطے میں چار…
کراچی میں پانی کی چوری کی روک تھام کے لیے قائم خصوصی تھانہ خود سنگین…
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کے دورے پر پہنچ گئے ہیں، ان کے ہمراہ امریکہ…