امریکی ریاستوں میں شدید گرمی کی لہر نے سترہ سو سالہ ریکارڈ توڑ دیے ہیں، ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ غیر معمولی صورتحال انسانی سرگرمیوں کے باعث ہونے والی موسمیاتی تبدیلیوں کا نتیجہ ہے۔
مغربی امریکہ کے مختلف علاقوں میں درجہ حرارت کی شدت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جو اب مشرق کی جانب بھی پھیل رہا ہے۔ کیلیفورنیا اور ایریزونا کی سرحد کے قریب واقع چار مقامات پر جمعہ کے روز درجہ حرارت چوالیس اعشاریہ چار ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا، جو مارچ کے مہینے میں امریکہ کا نیا قومی ریکارڈ ہے۔
ویدر ڈاٹ کام کی رپورٹ کے مطابق ایریزونا اور کیلیفورنیا سے لے کر ایڈاہو تک پینسٹھ شہروں میں مارچ کے مہینے کے دوران گرمی کے نئے ریکارڈ قائم ہو چکے ہیں۔ ڈیٹھ ویلی میں جمعرات کو درجہ حرارت چالیس ڈگری تک پہنچ گیا جبکہ سان فرانسسکو میں بھی پارہ انتیس ڈگری تک جا پہنچا، جو وہاں کے تاریخی ریکارڈ کے برابر ہے۔
نیشنل ویدر سروس نے لاس اینجلس، جنوبی کیلیفورنیا کے ساحلی علاقوں اور لاس ویگاس سمیت جنوب مغرب کے وسیع حصوں میں شدید گرمی کے انتباہ جاری کیے ہیں۔ حکام نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ بچوں اور پالتو جانوروں کو بند گاڑیوں میں ہرگز نہ چھوڑا جائے۔
ورلڈ ویدر ایٹریبیوشن نیٹ ورک نے اپنی رپورٹ میں واضح کیا ہے کہ انسانی مداخلت کے بغیر اس وقت ایسی گرمی کا تصور بھی ممکن نہیں تھا۔ امپیریل کالج لندن کی پروفیسر فریڈریکا اوٹو کا کہنا ہے کہ یہ اعداد و شمار کسی شک کی گنجائش نہیں چھوڑتے، موسمیاتی تبدیلیاں موسم کو ایسی انتہا پر لے جا رہی ہیں جو صنعتی دور سے پہلے ناقابل تصور تھیں۔
ماہرین کے مطابق یہ واقعہ اتنا نایاب ہے کہ اس طرح کی شدت کا امکان ہر پانچ سو سال میں صرف ایک بار ہوتا ہے۔ پروفیسر اوٹو نے خبردار کیا کہ مغرب میں وہ موسم ختم ہو رہے ہیں جن پر قدرت اور انسان صدیوں سے انحصار کرتے آئے ہیں، جس سے بیرونی کام کرنے والے افراد اور ایئر کنڈیشننگ سے محروم طبقہ شدید خطرے میں ہے۔
سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ جیواشم ایندھن کا جلنا گلوبل وارمنگ کی بنیادی وجہ ہے اور حالیہ ہیٹ ویو اس کی واضح علامت ہے۔ موسم بہار کی آمد کے ساتھ ہی اس غیر معمولی گرمی نے نباتات پر بھی اثرات مرتب کرنا شروع کر دیے ہیں اور کئی مقامات پر پودوں اور درختوں میں قبل از وقت پھول کھل رہے ہیں۔
لاس اینجلس کے رہائشی ٹیری سالاس نے موجودہ موسمیاتی تبدیلیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مارچ کے مہینے میں ایسی گرمی کا تجربہ پہلے کبھی نہیں ہوا۔ ماہرین کا مطالبہ ہے کہ پالیسی سازوں کو اب زمینی حقائق کے مطابق فوری اقدامات کرنے ہوں گے کیونکہ موسمیاتی بحران کا خطرہ اب مستقبل کا نہیں بلکہ حال کا مسئلہ بن چکا ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیجنگ کے دورے اور چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ…
اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین سے ملاقات کے لیے چھ رکنی…
اقوام متحدہ کے سابق ہتھیاروں کے معائنہ کار اور امریکی میرین کور کے انٹیلی جنس…
وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے گلگت بلتستان کے دورے کے دوران خطے میں چار…
کراچی میں پانی کی چوری کی روک تھام کے لیے قائم خصوصی تھانہ خود سنگین…
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کے دورے پر پہنچ گئے ہیں، ان کے ہمراہ امریکہ…