امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو آبنائے ہرمز کو 48 گھنٹے کے اندر جہاز رانی کے لیے مکمل طور پر کھولنے کی ڈیڈ لائن دے دی ہے۔ ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ اگر ایران نے مقررہ وقت میں آبنائے کو بغیر کسی شرط کے نہ کھولا تو امریکہ اس کے توانائی کے مراکز کو تباہ کر دے گا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں امریکی صدر نے کہا کہ 48 گھنٹے کی مہلت ختم ہونے کے بعد اگر ایران نے آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بحال نہ کیا تو امریکہ ایران کے پاور پلانٹس کو نشانہ بنائے گا اور اس کی شروعات سب سے بڑے پاور پلانٹ سے کی جائے گی۔
یاد رہے کہ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد سے تہران نے دنیا کی مصروف ترین تجارتی گزرگاہوں میں سے ایک، آبنائے ہرمز کو بند کر رکھا ہے۔ یہ آبی گزرگاہ خلیج کو بحیرہ عرب سے ملاتی ہے اور اس کا زیادہ سے زیادہ عرض 50 کلومیٹر جبکہ کم ترین حصہ 33 کلومیٹر پر محیط ہے۔
عالمی سطح پر تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل کا تقریباً 20 فیصد حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔ اس آبنائے سے ایران کے علاوہ عراق، کویت، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کا تیل بھی عالمی منڈیوں تک پہنچتا ہے۔
ماضی میں یہاں سے ماہانہ تقریباً 3 ہزار بحری جہاز گزرتے تھے، تاہم حالیہ کشیدگی اور ایران کی جانب سے ٹینکرز کو نشانہ بنانے کی دھمکیوں کے بعد جہاز رانی کا عمل بری طرح متاثر ہوا ہے۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے 18 مارچ کے اعداد و شمار کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک کم از کم 21 جہازوں کو نشانہ بنایا گیا یا ان پر حملے کی کوشش کی گئی۔
اس صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں ایندھن کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہے، جو رواں برس کے مقابلے میں 70 فیصد اور گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً 50 فیصد زیادہ ہے۔
کیوبا میں ایک ہفتے کے دوران دوسری بار قومی سطح پر بجلی کا نظام مکمل…
سائپرس میں برطانوی فضائی اڈے پر ایرانی ساختہ شاہد ڈرون کے حملے کے بعد برطانوی…
قطر کا ایک فوجی ہیلی کاپٹر تکنیکی خرابی کے باعث سمندر میں گر کر تباہ…
ایرانی حملوں نے اسرائیل کے اہم جوہری تحقیقی مرکز کے قریب واقع دو بستیوں کو…
ایران کی جانب سے داغا گیا میزائل اسرائیل کے شہر دیمونا میں واقع جوہری تنصیب…
عراق کی وزارت بجلی نے تصدیق کی ہے کہ ایران سے گیس کی ترسیل دوبارہ…