ایران، اسرائیل کشیدگی میں اضافہ: امریکی ڈیموکریٹس کا عوامی بحث اور شفافیت کا مطالبہ

واشنگٹن میں ایران کے میزائل حملوں کے بعد خطے میں کشیدگی چوتھے ہفتے میں داخل ہو گئی ہے، جس نے امریکی کانگریس میں صدارتی اختیارات اور جنگی حکمت عملی پر بحث کو تیز کر دیا ہے۔ ایران کی جانب سے اسرائیل کے جنوبی شہروں ڈیمونا اور آراد سمیت حساس جوہری تنصیبات کے قریب طویل فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل داغے گئے، جس کے نتیجے میں درجنوں افراد زخمی ہوئے اور کچھ میزائل اسرائیلی فضائی دفاعی نظام کو چکمہ دینے میں کامیاب رہے۔

تنازع کا دائرہ کار اس وقت مزید وسیع ہوا جب ایران نے بحر ہند میں واقع امریکہ اور برطانیہ کے مشترکہ فوجی اڈے ڈیاگو گارشیا کو بھی میزائلوں سے نشانہ بنانے کی کوشش کی۔ امریکی حکام کے مطابق ایک میزائل فضا میں ہی ناکارہ ہو گیا جبکہ دوسرے کو امریکی بحری جہاز نے مار گرایا، جس سے اڈے کو نقصان نہیں پہنچا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے فوجی مہم کے لیے کانگریس سے باقاعدہ اجازت نہ لینے پر ڈیموکریٹک قانون سازوں کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ سترہ سینیٹرز نے خبردار کیا ہے کہ وہ جنگی اختیارات کی قراردادوں کے ذریعے اس معاملے پر عوامی بحث اور نگرانی کو یقینی بنائیں گے۔ کوری بکر، ٹیمی بالڈون، ٹیمی ڈک ورتھ، ٹم کین، ایڈم شف اور کرس مرفی سمیت دیگر سینیٹرز کا کہنا ہے کہ بلا جواز فوجی کارروائیاں مستقبل کے لیے خطرناک مثال قائم کر سکتی ہیں۔

سینیٹ میں ڈیموکریٹک لیڈر چک شومر اور دیگر اہم کمیٹیوں کے ارکان نے مطالبہ کیا ہے کہ انتظامیہ کے اعلیٰ حکام حلفیہ بیان دیں، کیونکہ مبہم مقاصد اور غیر واضح حکمت عملی سے جانی نقصان اور ٹیکس دہندگان کے پیسوں کے ضیاع کا خدشہ بڑھ رہا ہے۔ سینیٹر ٹم کین نے کلاسیفائیڈ بریفنگز پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عوام کو اندھیرے میں رکھنے کا مقصد یہ ہے کہ انتظامیہ جانتی ہے کہ ان کی پالیسی عوامی جانچ پڑتال کا سامنا نہیں کر سکتی۔

دوسری جانب ریپبلکن قیادت نے ڈیموکریٹس کے مطالبے کو مسترد کر دیا ہے۔ سینیٹ میں اکثریتی لیڈر جان تھون کا کہنا ہے کہ انتظامیہ پہلے ہی کافی بریفنگز دے چکی ہے اور ڈیموکریٹس کا مقصد صرف حکومت کو شرمندہ کرنا ہے۔ ہاؤس اسپیکر مائیک جانسن نے خبردار کیا کہ عوامی سماعتیں آپریشنل سیکیورٹی کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں کیونکہ موجودہ مشن انتہائی حساس نوعیت کا ہے۔

عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کے سو ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرنے کے بعد ڈیموکریٹس کا موقف مزید مضبوط ہو گیا ہے کہ جنگ کے پھیلاؤ اور اس کے انسانی و معاشی اثرات پر عوامی سطح پر جوابدہی ضروری ہے۔ کانگریس میں جاری اس کشمکش کے باوجود ریپبلکن ارکان عوامی سماعتوں کے انعقاد کے لیے تیار نہیں ہیں، جس سے واشنگٹن کے ایوانوں میں سیاسی محاذ آرائی شدت اختیار کر گئی ہے۔

ویب ڈیسک

Recent Posts

معرکہ حق: پاک فضائیہ کی بھارت کے خلاف شاندار کامیابی کو ایک سال مکمل

اسلام آباد میں سات مئی کو معرکہ حق کی پہلی برسی انتہائی جوش و خروش…

53 منٹس ago

پیغامِ اسلام کانفرنس: وزیراعظم شہباز شریف اور آرمی چیف عاصم منیر امن کے علمبردار قرار

اسلام آباد سے جاری ہونے والے پیغامِ اسلام کانفرنس کے اعلامیے میں وزیراعظم شہباز شریف…

2 گھنٹے ago

خلیج اومان: امریکی فوج کی جانب سے ایرانی پرچم بردار آئل ٹینکر کو ناکارہ بنانے کا دعویٰ

خلیج عمان میں امریکی بحری افواج نے ایرانی پرچم بردار آئل ٹینکر ایم ٹی حسنا…

2 گھنٹے ago

ایران معاہدے کا خواہشمند ہے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ

واشنگٹن (رائٹرز) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران مذاکرات کا خواہاں…

3 گھنٹے ago

ڈیرہ اسماعیل خان ایئرپورٹ کی برسوں بعد بحالی، وزیر دفاع کا اعلان

وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے اعلان کیا ہے کہ پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی نے ڈیرہ…

3 گھنٹے ago

مشرقِ وسطیٰ تنازع کے خاتمے کے لیے چین کا مزید فعال کردار ادا کرنے کا اعلان

بیجنگ نے مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے اپنا کردار مزید بڑھانے…

4 گھنٹے ago