سوڈان کے مغربی خطے دارفور میں واقع ایک ہسپتال پر ہونے والے فضائی حملے کے نتیجے میں تیرہ بچوں سمیت کم از کم چونسٹھ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کی جانب سے ہفتے کے روز جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ جمعہ کو ہونے والے اس حملے میں نوے کے قریب افراد زخمی بھی ہوئے جس کے بعد ہسپتال مکمل طور پر غیر فعال ہو گیا ہے۔
عالمی ادارہ صحت کے سربراہ ٹیڈروس گیبریسس نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری بیان میں کہا کہ مشرقی دارفور میں واقع الادین ٹیچنگ ہسپتال کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس واقعے کے بعد سے طبی سہولیات کی فراہمی کا نظام درہم برہم ہو کر رہ گیا ہے۔
سوڈان میں فوج اور نیم فوجی تنظیم ریپڈ سپورٹ فورسز کے مابین اقتدار کی کشمکش اپریل دو ہزار تئیس سے جاری ہے جو اب ایک تباہ کن جنگ کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ ریپڈ سپورٹ فورسز نے ہسپتال پر حملے کا ذمہ دار سرکاری فوج کو ٹھہرایا ہے۔
دوسری جانب سوڈانی فوج نے اس حملے میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے تاہم دو عسکری حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ فضائی حملے کا اصل ہدف قریب ہی واقع ایک پولیس اسٹیشن تھا۔
اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق سوڈان کی اس خانہ جنگی میں اب تک چالیس ہزار سے زائد افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں تاہم امدادی تنظیموں کا ماننا ہے کہ ہلاکتوں کی اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔
عالمی ادارہ صحت کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک طبی تنصیبات پر حملوں کے نتیجے میں دو ہزار سے زائد افراد اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔ ٹیڈروس گیبریسس نے فریقین سے مطالبہ کیا ہے کہ بہت خون بہہ چکا اور عوام نے بہت تکالیف اٹھا لی ہیں لہذا اب سوڈان میں کشیدگی کم کرنے کا وقت آ گیا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اعلان کیا ہے کہ تہران نے امریکہ کے ساتھ…
وزیر اعظم شہباز شریف نے یوم پاکستان کے موقع پر قوم کے نام اپنے پیغام…
پاکستان کی خلائی اور بالائی فضا کی تحقیق کرنے والی تنظیم سپارکو نے موسمیاتی تبدیلیوں…
بانی پی ٹی آئی عمران خان نے عدلیہ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔…
کیوبا میں قومی سطح پر بجلی کا نظام درہم برہم ہونے کے بعد اتوار کے…
کراچی کے گل پلازہ میں ایک بار پھر آگ بھڑک اٹھی جس کے بعد امدادی…