ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اعلان کیا ہے کہ تہران نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے تمام راستے مکمل طور پر بند کر دیے ہیں۔ انہوں نے واشنگٹن پر الزام عائد کیا کہ ماضی میں سفارت کاری کی آڑ میں دھوکہ دہی کی گئی جس کے بعد اب کسی بھی قسم کی بات چیت کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی۔
عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ امریکہ کے ساتھ ماضی کے سفارتی تجربات انتہائی تلخ رہے ہیں اور واشنگٹن کی جانب سے دی گئی یقین دہانیاں محض فریب ثابت ہوئیں۔ انہوں نے ان اقدامات کو سفارت کاری کے نام پر بدترین دھوکہ دہی قرار دیا۔
ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ موجودہ علاقائی کشیدگی نے سفارتی عمل کو مکمل طور پر بے اثر کر دیا ہے۔ ان کے مطابق امریکہ کی جانب سے عدم جارحیت کے دعوے بھی غیر حقیقی اور گمراہ کن ہیں جن پر اب مزید اعتبار کرنا ممکن نہیں۔
تہران کی جانب سے یہ سخت موقف دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج کو ظاہر کرتا ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ بات چیت کے دروازے بند ہونے سے خطے میں کشیدگی میں اضافے کا خدشہ ہے اور سفارتی حل کے امکانات مزید معدوم ہو گئے ہیں۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف اور قطر کے وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن بن جاسم الثانی…
واشنگٹن نے ایران کی حمایت اور دہشت گردی میں مبینہ کردار کے الزامات کے تحت…
پاکستان اور سری لنکا کی اسپیشل فورسز کے درمیان انسدادِ دہشت گردی کی دو ہفتے…
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار…
پاکستان اور سری لنکا کی افواج کے مابین انسداد دہشت گردی کی دو ہفتے طویل…
مشرق وسطیٰ کی فضائی کمپنیوں کی پروازوں کی تعداد ایک ہفتے سے زائد عرصے میں…