ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اعلان کیا ہے کہ تہران نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے تمام راستے مکمل طور پر بند کر دیے ہیں۔ انہوں نے واشنگٹن پر الزام عائد کیا کہ ماضی میں سفارت کاری کی آڑ میں دھوکہ دہی کی گئی جس کے بعد اب کسی بھی قسم کی بات چیت کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی۔
عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ امریکہ کے ساتھ ماضی کے سفارتی تجربات انتہائی تلخ رہے ہیں اور واشنگٹن کی جانب سے دی گئی یقین دہانیاں محض فریب ثابت ہوئیں۔ انہوں نے ان اقدامات کو سفارت کاری کے نام پر بدترین دھوکہ دہی قرار دیا۔
ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ موجودہ علاقائی کشیدگی نے سفارتی عمل کو مکمل طور پر بے اثر کر دیا ہے۔ ان کے مطابق امریکہ کی جانب سے عدم جارحیت کے دعوے بھی غیر حقیقی اور گمراہ کن ہیں جن پر اب مزید اعتبار کرنا ممکن نہیں۔
تہران کی جانب سے یہ سخت موقف دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج کو ظاہر کرتا ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ بات چیت کے دروازے بند ہونے سے خطے میں کشیدگی میں اضافے کا خدشہ ہے اور سفارتی حل کے امکانات مزید معدوم ہو گئے ہیں۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیجنگ کے دورے اور چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ…
اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین سے ملاقات کے لیے چھ رکنی…
اقوام متحدہ کے سابق ہتھیاروں کے معائنہ کار اور امریکی میرین کور کے انٹیلی جنس…
وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے گلگت بلتستان کے دورے کے دوران خطے میں چار…
کراچی میں پانی کی چوری کی روک تھام کے لیے قائم خصوصی تھانہ خود سنگین…
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کے دورے پر پہنچ گئے ہیں، ان کے ہمراہ امریکہ…