عید ملن مہم کے تحت چھٹیوں کے باوجود ملک بھر کی جیلوں میں ستر ہزار قیدیوں کی دو لاکھ لواحقین سے ملاقات کرائی گئی۔ اس اقدام کا مقصد قیدیوں اور ان کے اہل خانہ کے درمیان روابط کو فروغ دینا تھا۔
قیدیوں کے لیے جدید کچن سسٹم متعارف کرایا گیا ہے جس کے تحت انہیں اعلیٰ معیار کا گرم کھانا فراہم کیا جا رہا ہے۔ خوراک کی بروقت اور موثر ترسیل کے لیے خصوصی گاڑیوں کا انتظام بھی کیا گیا ہے۔
ایک سرکاری عہدیدار کے مطابق جیلوں میں پیداواری یونٹس کا دائرہ کار بڑھایا جا رہا ہے جہاں ضروری اشیاء تیار کی جائیں گی۔ ان اشیاء کی فروخت سے حاصل ہونے والے منافع کا پچیس فیصد حصہ قیدیوں کو دیا جائے گا۔ جیلوں میں ویلفیئر اسٹورز کا قیام بھی عمل میں لایا جا رہا ہے جبکہ ممنوعہ اشیاء کی آمد روکنے کے لیے سخت اقدامات کیے گئے ہیں۔
ان منصوبوں کے لیے فنڈز مختص کر دیے گئے ہیں اور تمام امور کی نگرانی تربیت یافتہ عملہ کر رہا ہے۔ پیداوار میں اضافے کی صورت میں اضافی اشیاء کو باہر بھی فروخت کیا جا سکے گا۔
حکومت زیر غور منصوبوں کے تحت نئی بیرکوں اور مزید جیلوں کی تعمیر پر بھی کام کر رہی ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیجنگ کے دورے اور چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ…
اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین سے ملاقات کے لیے چھ رکنی…
اقوام متحدہ کے سابق ہتھیاروں کے معائنہ کار اور امریکی میرین کور کے انٹیلی جنس…
وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے گلگت بلتستان کے دورے کے دوران خطے میں چار…
کراچی میں پانی کی چوری کی روک تھام کے لیے قائم خصوصی تھانہ خود سنگین…
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کے دورے پر پہنچ گئے ہیں، ان کے ہمراہ امریکہ…