ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اعلان کیا ہے کہ تہران نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے تمام راستے مکمل طور پر بند کر دیے ہیں۔ انہوں نے واشنگٹن پر الزام عائد کیا کہ ماضی میں سفارت کاری کی آڑ میں دھوکہ دہی کی گئی جس کے بعد اب کسی بھی قسم کی بات چیت کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی۔
عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ امریکہ کے ساتھ ماضی کے سفارتی تجربات انتہائی تلخ رہے ہیں اور واشنگٹن کی جانب سے دی گئی یقین دہانیاں محض فریب ثابت ہوئیں۔ انہوں نے ان اقدامات کو سفارت کاری کے نام پر بدترین دھوکہ دہی قرار دیا۔
ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ موجودہ علاقائی کشیدگی نے سفارتی عمل کو مکمل طور پر بے اثر کر دیا ہے۔ ان کے مطابق امریکہ کی جانب سے عدم جارحیت کے دعوے بھی غیر حقیقی اور گمراہ کن ہیں جن پر اب مزید اعتبار کرنا ممکن نہیں۔
تہران کی جانب سے یہ سخت موقف دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج کو ظاہر کرتا ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ بات چیت کے دروازے بند ہونے سے خطے میں کشیدگی میں اضافے کا خدشہ ہے اور سفارتی حل کے امکانات مزید معدوم ہو گئے ہیں۔
سکھر میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما سید خورشید…
عید ملن مہم کے تحت چھٹیوں کے باوجود ملک بھر کی جیلوں میں ستر ہزار…
وزیر اعظم شہباز شریف نے یوم پاکستان کے موقع پر قوم کے نام اپنے پیغام…
پاکستان کی خلائی اور بالائی فضا کی تحقیق کرنے والی تنظیم سپارکو نے موسمیاتی تبدیلیوں…
بانی پی ٹی آئی عمران خان نے عدلیہ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔…
کیوبا میں قومی سطح پر بجلی کا نظام درہم برہم ہونے کے بعد اتوار کے…