ایلون مسک کا نیا سیمی کنڈکٹر منصوبہ ‘ٹیرافب’: ٹیسلا اور اسپیس ایکس کے لیے جدید چپس کی تیاری

ایلون مسک نے ایک انتہائی جدید سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ پلانٹ قائم کرنے کا اعلان کیا ہے جسے ٹیرافیب کا نام دیا گیا ہے۔ یہ عظیم الشان منصوبہ ٹیکساس کے شہر آسٹن میں شروع کیا جائے گا جس کا مقصد ٹیسلا گاڑیوں، اسپیس ایکس کے خلائی جہازوں اور آپٹیمس ہیومینائیڈ روبوٹس کے لیے جدید ترین چپس کی تیاری ہے۔

مسک کا کہنا ہے کہ یہ فیکٹری تاریخ کا سب سے بڑا چپ سازی کا عمل ثابت ہوگی۔ اس منصوبے کو ان کی تین بڑی کمپنیوں ایکس اے آئی، اسپیس ایکس اور ٹیسلا کا مشترکہ تعاون حاصل ہوگا۔ فی الحال ایلون مسک کی کمپنیاں چپس کے حصول کے لیے سام سنگ سمیت دیگر مینوفیکچررز پر انحصار کرتی ہیں، لیکن ٹیرافیب کے قیام سے یہ انحصار ختم ہو جائے گا۔

ایک پریزنٹیشن کے دوران ایلون مسک نے واضح کیا کہ اس پلانٹ کا مقصد محض گاڑیاں یا روبوٹس بنانا نہیں بلکہ انسانیت کو ایک کہکشانی تہذیب میں تبدیل کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ سائنس فکشن ناول نگاروں کے تصورات کو حقیقت کا روپ دینے کے خواہاں ہیں تاکہ مستقبل کو شاندار بنایا جا سکے۔

ٹیسلا کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق یہ فیکٹری سالانہ ایک ٹیراواٹ چپ آؤٹ پٹ پیدا کرنے کی صلاحیت رکھے گی، جو دنیا بھر کے موجودہ اور دو ہزار تیس تک کے متوقع پیداواری حجم سے بھی زیادہ ہے۔ اس پلانٹ میں چپس کے ڈیزائن کو بہتر بنانے کے لیے ایک تیز رفتار ریکرسیو لوپ کا نظام متعارف کرایا جائے گا جو دنیا میں اپنی نوعیت کا پہلا تجربہ ہوگا۔

ٹیرافیب خاص طور پر دو اقسام کے سیمی کنڈکٹرز پر توجہ مرکوز کرے گا۔ اول، خلائی ماحول کے لیے انتہائی طاقتور چپس جو کائناتی تابکاری اور شدید درجہ حرارت کو برداشت کر سکیں۔ دوم، ایسی چپس جو مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کے شعبوں میں انقلاب لا سکیں۔

ایلون مسک نے پیش گوئی کی کہ دو ہزار ستائیس تک ٹیسلا کے آپٹیمس روبوٹس مارکیٹ میں دستیاب ہوں گے اور مستقبل میں ان کی تعداد انسانوں سے بھی تجاوز کر سکتی ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ یہ روبوٹس انسانی محنت کے بوجھ کو کم کریں گے اور افرادی قوت کی کمی کو پورا کریں گے۔

اپنے طویل مدتی وژن کا اظہار کرتے ہوئے مسک نے کہا کہ طاقتور چپس کی بدولت مصنوعی ذہانت سے لیس سیٹلائٹس اور چاند پر برقی مقناطیسی ڈرائیورز کا قیام ممکن ہو سکے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ مستقبل میں بین السیاروی سفر نہ صرف آسان بلکہ مفت بھی ہو سکتا ہے، جس سے زحل جیسے سیاروں تک پہنچنا عام انسان کے لیے ممکن ہو جائے گا۔

ویب ڈیسک

Recent Posts

تائیوان کا تنازعہ: ٹرمپ اور شی جن پنگ کی ملاقات میں سب سے اہم ایشو

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیجنگ کے دورے اور چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ…

1 مہینہ ago

پی ٹی آئی کی جانب سے عمران خان سے ملاقات کے لیے پارٹی رہنماؤں کی فہرست اڈیالہ جیل حکام کے حوالے

اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین سے ملاقات کے لیے چھ رکنی…

1 مہینہ ago

اسکاٹ ریٹر کی جانب سے پاکستان کو نوبل انعام دینے کی حمایت

اقوام متحدہ کے سابق ہتھیاروں کے معائنہ کار اور امریکی میرین کور کے انٹیلی جنس…

1 مہینہ ago

گلگت بلتستان میں دانش اسکولوں کا قیام: خطے میں معیاری تعلیم کے فروغ کی جانب اہم پیش رفت

وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے گلگت بلتستان کے دورے کے دوران خطے میں چار…

1 مہینہ ago

کراچی: پانی چوری روکنے والا پولیس اسٹیشن خود کرپشن کے الزامات کی زد میں

کراچی میں پانی کی چوری کی روک تھام کے لیے قائم خصوصی تھانہ خود سنگین…

1 مہینہ ago

امریکی صدر ٹرمپ کا دورہ چین: ایک ٹریلین ڈالر مالیت کے حامل بڑے کاروباری رہنما ہمراہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کے دورے پر پہنچ گئے ہیں، ان کے ہمراہ امریکہ…

1 مہینہ ago