لندن میں یہودی برادری کی چار ایمبولینسوں کو نذر آتش کرنے کے واقعے کے سلسلے میں برطانوی پولیس نے دو مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ پولیس کے مطابق گرفتار کیے گئے افراد کی عمریں 47 اور 45 برس ہیں جنہیں بالترتیب شمال مغربی اور وسطی لندن سے حراست میں لیا گیا۔ دونوں ملزمان فی الحال پولیس کی تحویل میں ہیں۔
یہ واقعہ پیر کی صبح سویرے پیش آیا تھا جس میں ایمبولینسوں کو آگ لگا دی گئی تھی۔ برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے یہودی مخالف آتش زنی کا انتہائی تشویشناک واقعہ قرار دیا تھا۔ خوش قسمتی سے اس کارروائی میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور سی سی ٹی وی فوٹیج سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ واقعے میں کم از کم تین افراد ملوث تھے۔ پولیس اس پہلو پر بھی غور کر رہی ہے کہ آیا اس کارروائی کا تعلق ایران سے تو نہیں، تاہم تہران کی جانب سے ان الزامات کی تردید کی جاتی رہی ہے۔
شمالی لندن کے متاثرہ علاقوں میں احتیاطی تدابیر کے طور پر پولیس کی نفری تعینات رکھی گئی ہے۔ برطانیہ میں یہودی مخالف جذبات میں اضافے پر تشویش پائی جاتی ہے جبکہ حکام نے یہودی تنصیبات کی نگرانی یا انہیں ہدف بنانے کے حوالے سے ایران کے ممکنہ خطرات کے بارے میں بھی خبردار کیا ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیجنگ کے دورے اور چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ…
اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین سے ملاقات کے لیے چھ رکنی…
اقوام متحدہ کے سابق ہتھیاروں کے معائنہ کار اور امریکی میرین کور کے انٹیلی جنس…
وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے گلگت بلتستان کے دورے کے دوران خطے میں چار…
کراچی میں پانی کی چوری کی روک تھام کے لیے قائم خصوصی تھانہ خود سنگین…
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کے دورے پر پہنچ گئے ہیں، ان کے ہمراہ امریکہ…