تہران میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے ترک صدر رجب طیب اردوان کی جانب سے صہیونی جارحیت کے خلاف اختیار کردہ دو ٹوک اور اصولی موقف کو سراہا ہے۔ سرکاری بیان میں ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ ترک قیادت کا عزم قابل ستائش ہے اور ترک قوم طویل عرصے سے عالم اسلام کے ساتھ یکجہتی کے اظہار میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ خدا کے فضل سے دونوں ممالک اس باوقار راستے پر مل کر آگے بڑھتے رہیں گے۔
یہ بیان ترک صدر رجب طیب اردوان کی جانب سے ایران میں امن کوششوں کی حمایت کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لانے کے اعلان کے ایک روز بعد سامنے آیا ہے۔ ترک صدر نے خبردار کیا کہ جاری تنازع پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے اور ان کی حکومت جنگ کے معاشی اثرات کو کم کرنے کے لیے ہنگامی اقدامات کر رہی ہے۔
خطے میں کشیدگی کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کو ایک امن منصوبہ پیش کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق تقریباً ایک ماہ سے جاری جنگ کو ختم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں جبکہ تہران نے اعلان کیا ہے کہ وہ غیر جارحانہ تیل بردار جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دے گا۔
اگرچہ سفارتی حل کے آثار نمایاں ہو رہے ہیں تاہم زمینی حقائق بدستور تشویشناک ہیں۔ حالیہ جھڑپوں کے دوران ایرانی میزائل حملے میں اسرائیلی حدود میں جانی نقصان کی اطلاعات ہیں جبکہ اسرائیل نے جنوبی لبنان کے سرحدی علاقوں پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی انتظامیہ ایران کے ساتھ مذاکرات کر رہی ہے تاہم تہران کی جانب سے ابھی تک کسی باضابطہ مذاکراتی عمل کی تصدیق نہیں کی گئی ہے۔ ٹرمپ کے بیانات میں تضاد برقرار ہے اور وہ کبھی ایران پر بڑے حملوں کی دھمکی دیتے ہیں تو کبھی جنگ کے خاتمے کا عندیہ دے رہے ہیں۔
وزارت مذہبی امور نے حج دو ہزار چھبیس کے لیے پروازوں کا شیڈول جاری کر…
بانی پی ٹی آئی عمران خان کے صاحبزادے قاسم خان نے اقوام متحدہ کی انسانی…
امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر مشترکہ حملوں کے پچیس روز بعد زمینی…
تہران (ویب ڈیسک) ایرانی بحریہ کے کمانڈر شہرام ایرانی نے دعویٰ کیا ہے کہ ان…
اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل…
جنوبی افریقہ نے کرائسٹ چرچ میں کھیلے گئے فیصلہ کن ٹی ٹوئنٹی میچ میں نیوزی…